1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں

پاکستان کے میدانی علاقے آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں ۔ سبی ، نواب شاہ اور لاڑکانہ سمیت کئی شہروں میں درجہ حرارت 52 سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ اس صورت حال نے پاکستان میں معمولات زندگی کو بر ی طرح متاثر کیا ہے۔

default

محکمہ موسمیات کی طرف سے حاصل کی جانے والی معلومات کے مطابق اس وقت پاکستان کے کئی شہروں میں درجہ حرارت موجودہ موسم گرما کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ خاص طور پر مشرقی بلوچستان ، سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں تو سورج آگ برسا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے گرمی کی شدت کے پیشِ نظر لوگوں کومحتاط رہنے اور دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔

پنجاب کے محکمہ موسمیات کے سربراہ حضر ت میر نے ڈوئچے ویلے کو بتا کہ صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبر پختونخواہ اور کشمیر میں گرمی کی شدید لہر مزید ایک روز جاری رہے گی ۔ جبکہ سندھ اور بلوچستان میں یہ صورتحال دو روز تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔

کراچی میں محکمہ موسمیات کے ایک ڈائریکٹر نعیم شاہ کے مطابق منگل کے روز نواب شاہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کا 56سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ان کے مطابق 1954میں مئی کے مہینے میں یہاں پر درجہ حرارت 51سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا مگر منگل کے روز یہاں درجہ حرارت 52سینٹی گریڈ رہا۔ ادھر پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں بھی درجہ حرارت 4سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا ہے۔

Ganges - BdT

لوگ شدید گرمی سے بے حال ہیں

پچھلے چند دنوں میں گرمی کی وجہ سے لاہور ، فیصل آباد اور ملتان سمیت ملک کے کئی علاقوں سے آدھی درجن کے قریب افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میڈیکل سوسائٹی کے سربراہ ڈاکٹر مسعود شیخ کے مطابق لو لگنے اور سن سٹروک سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گرمی کی وجہ سے دیگر بیماریوں کے شکار مریضوں کی تعداد میں بھی معمول سے 30فیصد زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہے۔

سمیرا نامی ایک خاتون نے بتایا کہ آج کل کہیں جانے کیلئے مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند کرا دی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے خواتین کو چلچلاتی دھوپ میں شاپنگ کیلئے جانا پڑتا ہے جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

احمد بن متین نامی ایک طالب علم نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کو گرمی کے پیش نظر یکم جون سے موسم گرم کی تعطیلات کرنے کے فیصلے کا پابند بنایا جائے۔

موجودہ موسم گرما کے گرم ترین موسم میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں حالیہ اضافے اور بعض علاقوں میں پانی کے نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ کئی شہروں سےلوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے لوگ احتجاجی مظاہرے بھی کر رہے ہیں ۔

محکمہ موسمیات نے جمعرات کی شام اور جمعہ کے روز ملک کے بالائی علاقوں اسلام آباد ، کشمیر ، بالائی پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے بعض علاقوں میں آندھی کے ساتھ بارش ہونے کی پیشن گوئی کی ہے ۔ جبکہ محکمہ موسمیات پنجاب کے سربراہ حضر میر کا یہ کہنا ہے کہ اس سال مون سون کی بارشوں کا آغاز جون کے آخری ہفتے سے ہونے کی توقع ہے اور اس سال مون سون کی بارشیں معمول کے مطابق ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد ، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM