1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کے آن لائن مدارس، منافع بخش کاروبار

حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں ہزاروں ایسے آن لائن مدارس قائم ہوئے ہیں، جو سکائپ جیسی ویڈیو سروسز استعمال کرتے ہوئے امریکا، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم مسلمان بچوں کو اسلامی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔

رات کے اس پہر پاکستانی شہر راولپنڈی کے چاندنی چوک اسکوائر میں ہر طرف خاموشی ہے لیکن کبھی کبھار کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل گزرتی ہے تو اس کی آواز خاموشی کو توڑ دیتی ہے۔ دکاندار اپنی دکانیں بند کر چکے ہیں لیکن کچھ نوجوانوں کی ملازمت کا وقت رات گئے اب شروع ہو رہا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں، جو اس مدرسے یا ادارے کے لیے ملازمت کرتے ہیں، جو بیرون ملک مقیم پاکستانی خاندانوں کے بچوں کو اسکائپ کے ذریعے اسلامی یا قرآنی تعلیم فراہم کرتا ہے۔

ایک کثیر المنزلہ عمارت میں قائم اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے یاسر ہارون کا کہنا تھا، ’’یہ میرے لیے آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے اور اسلام کی اشاعت کا ایک مقدس فریضہ بھی۔‘‘ یاسر ہارون گزشتہ تین برسوں سے اپنا آن لائن مدرسہ چلا رہے ہیں اور ان کے طالب علم امریکا، برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔

یاسر ہارون نے اس مقصد کے لیے سات اساتذہ کو ملازمت پر رکھا ہوا ہے اور یہ تمام اساتذہ پاکستانی مدرسوں کے فارغ التحصیل ہیں۔ یہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ترجمہ اور تشریح بھی پڑھاتے ہیں۔ ہارون کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مغرب میں رہنے والے لوگوں کو اسلام میں دلچسپی ہے۔ کئی دیگر اساتذہ بھی اسی طرز پر بیرون ملک مقیم بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں۔ روزانہ کی کلاس اسکائپ پر ہوتی ہے۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

Beginn des Ramadans Flash-Galerie (dapd)

بیرون ملک مقیم خاندانوں کو اسلامی تعلیم فراہم کرنے والوں کو سرچ انجن کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے یا پھر تعلقات کے ذریعے نئے طالب علم تلاش کیے جاتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم،  جن خاندانوں کے بچے اس طرح اسلامی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، زیادہ تر ان خاندانوں کا تعلق پاکستان، بھارت یا پھر بنگلہ دیش سے ہوتا ہے۔ روزانہ نصف گھنٹے کا درس یا تو بچے اکیلے یا پھر چھوٹے گروپوں کی شکل میں حاصل کرتے ہیں۔

اس وقت ایسے کوئی بھی واضح اعداد و شمار نہیں ہیں کہ ایسے آن لائن مدرسوں کی تعداد کتنی ہے؟ پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے سربراہ عامر طاسین کہتے ہیں، ’’ایسے مدرسوں کی نگرانی نہیں کی جا سکتی۔ ہم ابھی تک حقیقی مدرسوں کی نگرانی کا نظام نہیں قائم کر سکے، آن لائن کے بارے میں تو بھول ہی جائیے۔ اس کے لیے صرف ایک کمپیوٹر اور اسکائپ آئی ڈی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

اسی شہر میں ایک دوسرا مدرسہ چلانے والےعمران جمشید کا کہنا تھا، ’’میرے خیال میں ایسے مدرسوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایسے آن لائن مدارس صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی چلائے جا رہے ہیں۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق بیرون ملک بچوں کو پڑھانا ایک منافع بخش کاروبار بھی ہے۔ پاکستان میں آئمہ یا مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں بہت کم ہیں جبکہ بیرون ملک صرف ایک بچے کو پڑھانے سے پورے مہینے کی تنخواہ نکل آتی ہے۔