1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کی چار ملین سے زائد بیوگان، سماجی محرومی سے عبارت زندگی

دنیا کے بہت سے ملکوں میں کسی بھی خاتون کے لیے بیوہ ہو جانے کے بعد محرومی، مسائل اور جدوجہد کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی چار ملین سے زائد بیوگان کی اکثریت کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے۔

یہ بات ناقابل یقین محسوس ہوتی ہے کہ مختلف ملکوں یا بین الاقوامی سطح پر اس بارے میں قابل اعتبار اعداد و شمار جمع کرنے والا کوئی قابل ذکر ادارہ نہیں جو خاص طور پر صرف بیوہ خواتین یا لڑکیوں کے بارے میں کوئی مستند رپورٹ جاری کرتا ہو۔

اس موضوع پر دنیا بھر میں تحقیق کے بعد اپنی عالمی رپورٹ تیار کرنے والا واحد ادارہ بظاہر برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم لُومبا فاؤنڈیشن ہی ہے، جس نے اپنی پہلی رپورٹ دو ہزار دس میں اور دوسری اور آخری رپورٹ دو برس قبل یعنی دو ہزار پندرہ میں جاری کی تھی۔

لُومبا فاؤنڈیشن کی پانچ برس کے وقفے کے بعد دو سال قبل جاری کی گئی آخری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے، دو سال قبل شادی کی عمر کی خواتین کی تعداد، حکومتی اعداد و شمار اور لُومبا فاؤنڈیشن کے اندازوں کے مطابق، اکہتر ملین سے زائد بنتی تھی۔

Pakistan International Widow Day (DW/I. Jabeen)

’’میرے شوہر کی وفات سے ہمارے لیے جو خلا پیدا ہوا، اسے کوئی پُر نہیں کر سکتا۔ میں ایک گھریلو خاتون ہوں۔ مجھے دنیا کا کچھ پتہ نہ تھا‘‘، فرزانہ شاہین

ان اکہتر ملین یا سات کروڑ سے زیادہ  پاکستانی خواتین اور لڑکیوں میں چار ملین سے زائد بیوہ عورتیں اور لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ تب جنوبی ایشیا کی کئی کروڑ بیوگان میں سے قریب ساڑھے سات فیصد بیوہ عورتیں پاکستانی شہری تھیں۔

پاکستان میں جہاں عورتوں اور بچوں کے حقوق کے علاوہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق انسانی حقوق کا بھی بہت زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا، بیواؤں کے حقوق کی بات کرنا سماجی طور پر ایک پس پشت ڈال دیا گیا موضوع دکھائی دیتا ہے۔

آج جمعہ تئیس جون کے روز منائے جانے والے بیواؤں کے عالمی دن کے موقع پر ڈی ڈبلیو نے یہ پتہ چلانے کی کوشش کی کہ پاکستان میں، جو ابھی تک ایک قدامت پسند اور پدر شاہی معاشرہ ہے اور جہاں سماجی محرومی بھی جگہ جگہ نظر آتی ہے، چالیس لاکھ سے زیادہ بیوہ عورتیں اور نوجوان لڑکیاں کن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

دو ہزار پندرہ کے آخری اعداد و شمار کے مطابق تب دنیا میں بیوگان کی سب سے زیادہ تعداد بھارتی خواتین کی تھی، جن کے بعد چینی عورتوں کا نمبر آتا تھا جب کہ دو سال پہلے اپنے ہاں بیوہ خواتین اور بیوہ لڑکیوں کی مجموعی تعداد کے حوالے سے عالمی فہرست میں پاکستان دسویں نمبر پر تھا۔

Witwen Vrindavan

دو ہزار پندرہ کے آخری اعداد و شمار کے مطابق تب دنیا میں بیوگان کی سب سے زیادہ تعداد بھارتی خواتین کی تھی

بین الاقوامی سماجی اور معاشرتی ماہرین کے مطابق جب کسی ملک میں قانون کی حکمرانی اور سماجی تحفظ کا معیار متاثر کن نہ ہو اور بیوہ خواتین کو اپنے علاوہ اپنے یتیم بچوں کی کفالت کا بوجھ بھی اٹھانا ہو، تو ان کی زندگی ایک ایسی تکلیف دہ لیکن ہر نئےدن کی حقیقت بن جاتی ہے، جس کی طرف کسی کی نظر جاتی ہی نہیں۔

پاکستان میں جہاں تازہ ترین مردم شماری کے نتائج کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ کسی عام بیوہ کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں کس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ سوال ہم نے پوچھا اسلام آباد کے علاقے ستارہ مارکیٹ کی رہنے والی چھتیس سالہ فاخرہ سے، جنہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ستائیس برس کی عمر میں میرا شوہر جو ایک مکینک تھا، کرنٹ لگنے سے وفات پا گیا اور میں بیوہ ہو گئی۔ تب میرا بیٹا چار سال کا تھا اور وہ اور میں اس دنیا میں بالکل تنہا رہ گئے تھے۔‘‘

فاخرہ نے کہا، ’’بیوگی میں معاشرہ صرف بے چارگی کی نگاہ ڈالتا ہے اور لوگ صرف اپنے مطلب کے لیے ہی آپ کے پاس آتے ہیں۔ سسرال والے مجھے منحوس گردانتے ہیں کہ یہ ہمارے بیٹے کو کھا گئی۔ مجھ سے اکثر شادی بیاہ کی تقریبات میں اچھوتوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔‘‘

اسی طرح راولپنڈی کے علاقے مسلم ٹاؤن کی رہائشی اکاون سالہ خاتون فرزانہ شاہین نے ڈی ڈبلیو کو اپنے حالات زندگی بتاتے ہوئے کہا، ’’میرے شوہر حاجی لطیف کو اس دنیا سے رخصت ہوئے دو سال ہو گئے ہیں۔ ان کی وفات سے ہمارے لیے جو خلا پیدا ہوا، اسے کوئی پُر نہیں کر سکتا۔ میں ایک گھریلو خاتون ہوں۔ مجھے دنیا کا کچھ پتہ نہ تھا۔ میرے شوہر ہی گھر سے باہر کے سارے کام کرتے تھے۔ گھر ان کے بغیر اتنا خالی اور زندگی اتنی مشکل ہو جائے گا، یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ بچوں کا رشتہ بے تکلفی کا رشتہ نہیں ہوتا لیکن زندگی گزارنے کے لیے بے تکلفی چاہیے ہوتی ہے۔‘‘

Pakistan International Widow Day (DW/I. Jabeen)

دو ہزار پندرہ کے آخری اعداد و شمار کے مطابق بیوگان کی تعداد کے حوالے سے عالمی فہرست میں پاکستان دسویں نمبر پر تھا

پاکستان میں بیوہ عورتوں اور لڑکیوں کی صورت حال کے بارے میں عورت فاونڈیشن کی ڈائریکٹر  ایڈووکیسی رابعہ ہادی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’عوامی سطح پر بیواؤں سے متعلق کوئی قابل اعتماد سرکاری یا غیر سرکاری اعداد و شمار موجود ہی نہیں، اسی لیے حکومت بھی کوئی ایسا مربوط نظام وضع نہیں کر سکتی، جس سے خاص طور پر بیواؤں اور ان کے بچوں کو درپیش کئی طرح کے سماجی، مالیاتی، طبی اور تعلیمی مسائل کا تدارک ہو سکے۔‘‘

جب ڈی ڈبلیو نے رابعہ ہادی سے یہ پوچھا کہ خواتین اور بیواؤں کی امداد اور تحفظ کی تنظیمیں اس سلسلے میں کیا کر رہی ہیں، تو انہوں نے کہا، ’’ایسی تنظیمیں بشمول عورت فاؤنڈیشن فی الحال اپنی توجہ کا مرکز اس معاملے میں حکومت کے ساتھ ایڈووکیسی کو بنائے ہوئے ہیں اور بات اس سے آگے نہیں پہنچی۔ مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں بیواؤں کی امداد کے بین الاقوامی طور پر رائج سماجی نظام اور معیار سے متعلق آگہی میں اضافہ کیا جائے اور حکومت کی استعداد سازی کی جائے تاکہ کئی ملین پاکستانی بیوائیں صرف غربت اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوں۔‘‘