1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ماڈل

کامی سڈ نامی خواجہ سرا کو اپنی ماڈل شوٹ سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اس سے یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ پاکستان میں خواجہ سرا کسی بھی شعبے میں نام بنا سکتے ہیں۔

ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے لیے کام کر نے والی ایک کارکن کامی سڈ نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے 'سب رنگ سوسائٹی پاکستان' نام سے اپنی ایک تنظیم بھی بنائی ہے۔ اس کے علاوہ وہ فورم فار ڈیگنیٹی اینیشی ایٹیوز، اسٹریٹ ٹو اسکول اور کئی دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے بورڈز کی رکن بھی ہیں۔ کامی کا کہنا ہے کہ ان کے اس کام سے زیادہ ان کی فوٹو شوٹ کو کافی توجہ حاصل ہوئی ہے جسے بز فیڈ نامی ویب سائٹ نےحال ہی میں شائع کیا ہے۔ کامی کہتی ہیں کہ انہیں حاصل ہونے والی حوصلہ افزائی کی بدولت وہ مستقبل میں ماڈلنگ کے شعبے سے بھی منسلک ہونا چاہیں گی۔

کامی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس فوٹو شوٹ کا خيال ان کے دوست وقار جہاں کا تھا۔ ان کا میک اپ نگہت مصباح نے کیا اور تصاویر محمد حسیب صدیقی نے لیں۔

پاکستانی معاشرے میں سپریم کورٹ کی جانب سے خواجہ سراوں کو جائیداد میں حصہ ملنے کے بارے ميں احکامات کے باوجود انہیں وہ حقوق اور عزت حاصل نہیں ہے جو معاشرے میں ایک عام شہری کو حاصل ہیں۔ اس بارے ميں کامی سڈ کا کہنا ہے، "سپریم کورٹ کے فیصلے میں ٹراس جینڈر کمیونٹی سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک اس فیصلے پر عمل در آمد نہیں ہوپایا۔" کامی کی رائے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور موجودہ قوانین تمام طرح کے ٹرانس جینڈرز کو تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ ان کی رائے میں ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادروں کو بھی ٹرانس جینڈرز کے بارے میں آگہی فرام کرنے کی ضرورت ہے۔ کامی کہتی ہیں کہ وہ سندھ میں سول سوسائٹی کے ساتھ کام کر رہی ہیں لیکن قومی سطح پر ٹرانس جینڈرز کے حقوق اور ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کو آگاہ نہیں کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جہاں ٹرانز جینڈرز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ صنفی حقوق پر کام کرنے والی کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین خواجہ سراوں کو تحفظ فراہم نہیں کر رہے۔

اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کامی نے بتایا کہ وہ بھی ایک قدامت پسند گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ بائیس سال کی عمر میں انہیں اندازہ ہوا کہ وہ دوسروں سے مختلف ہیں۔ وہ اب اپنے اہل خانہ سے علیحدہ رہتی ہیں۔ کامی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،" مجھے اپنے گھر والوں کی فکر ہے، میں نہیں چاہتی کہ لوگ انہیں ذلیل کریں اور میری وجہ سے انہیں طعنے دیں اس لیے میں ان سے علیحدہ ہو گئی ہوں۔" کامی کہتی ہیں کہ علیحدہ رہ کر وہ آزادی سے اس طرح رہ سکتی ہیں جیسا وہ رہنا چاہتی ہیں۔

کامی کہتی ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کر پائیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ بطور ٹرانس جینڈر کئی بین الاقوامی سکالرشپس حاصل کر چکی ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈانس پرفارمنسز بھی دے چکی ہیں۔ کامی کہتی ہیں کہ ملک میں خواجہ سراوں کی اکثریت تعلیم سے محروم ہے اور تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے کوئی بھی انسان اپنی قسمت بدل سکتا ہے۔ جب تک خواجہ سراوں کو معاشرے کا حصہ قبول نہیں کیا جائے گا ان کی حالت زار بہتر نہیں ہو گی۔ کامی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹرانس جینڈرز کے لیے پروٹیکشن پالیسی بنائی جائے اور قومی سطح پر ان کے حقوق فراہم کرنے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی طور پر ان کے لیے ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے۔