1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کی پہلی خاتون ٹرک ڈرائیور شمیم اختر

پاکستانی شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی اور راولپنڈی میں رہائش پذیر باہمت خاتون شمیم اختر پاکستان میں تجارتی مال برداری کے لیے ٹرک چلانے والی وہ پہلی خاتون ہیں، جو اس طرح اپنی روزی کماتی ہیں۔

تریپن سالہ شمیم اختر نے ٹرک ڈرائیونگ کا پیشہ مالی مجبوریوں کی وجہ سے اپنایا۔ وہ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہیں۔ ان کے والد چوہدری خوشی محمد کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ شمیم اختر نے اسلام آباد ٹریفک پولیس سے ٹریننگ لی اور عمومی سماجی روایات کو توڑتے ہوئے ٹرک چلانا شروع کر دیا، ایک ایسا پیشہ، جو قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں اب تک خواتین کے لیے ’شجرممنوعہ‘ سمجھا جاتا ہے۔
شمیم اختر نے، جو ایک بہت سادہ سی خاتون ہیں، ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ پہلے وہ کار چلاتی تھیں۔ پھر انہوں نے لڑکیوں کو گاڑی چلانا بھی سکھائی اور اس کے بعد اپنے مالی حالات سے مجبور ہو کر ٹرک چلانا شروع کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرک چلاتے ہوئے ان کا پہلا سفر راولپنڈی سے آزاد جموں و کشمیر تک کا سفر تھا اور ان کے ٹرک پر سات ہزار اینٹیں لدی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک بار مال برداری کرنے کے تقریباﹰ ایک ہزار روپے تک مل جاتے ہیں۔ شمیم اختر نے کہا، ’’میری بڑی خواہش ہے کہ کبھی میرے پاس اتنے وسائل ہوں کہ میں اپنا ذاتی ٹرک خرید سکوں۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے ساتھ اس خصوصی انٹرویو میں اس باہمت خاتون نے کہا کہ ٹرک چلانا بھی کوئی خاص بات ثابت ہو گی، یہ انہوں نے کبھی نہ سوچا تھا، وہ تو اسے محض اپنے لیے روزی کمانے کا ذریعہ سمجھتی تھیں۔ لیکن میڈیا اور دیگر افراد کی جانب سے انہیں بحیثیت ایک خاتون ٹرک ڈرائیور کے اتنی عزت ملے گی، یہ انہوں نے کبھی نہ سوچا تھا۔ ’’یہ میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔‘‘

آبائی طور پر ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے بتایا کہ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ ان کے پانچ بچے ہیں، جن میں سے چار بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا۔ بیٹا سب سے چھوٹا ہے، جو میٹرک میں پڑھتا ہے۔ شمیم اختر چاہتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم دلوا سکیں۔ اپنے شوہر کا ذکر کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئیں اور کہا، ’’وہ زندہ ہیں لیکن ایک ساتھ رہنا ہمارے نصیب میں نہیں ہے۔‘‘

اس انٹرویو میں شمیم اختر نے پاکستانی ٹریفک پولیس کا بار بار ذکر کیا اور کہا کہ وہ اس محکمے کی بہت شکر گزار ہیں کیونکہ آج وہ جس مقام پر ہیں، ٹریفک پولیس ہی کی وجہ سے ہیں۔ شمیم اختر ٹرک چلانے سے پہلے اسٹیٹ لائف کے لیے کام کرتی تھیں اور ساتھ ساتھ ایک سلائی اسکول میں استانی کے فرائض بھی انجام دیتی تھیں۔ پھر وہ اسکول بند ہو گیا اور انہیں مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ تب کسی نے انہیں ڈرائیونگ سیکھنے کا مشورہ دیا لیکن ان کے پاس ڈرائیونگ کورس کی فیس تک نہیں تھی، ’’میں نے یہ فیس ادھار لے کر ادا کی تھی اور پھر اُسی اسکول میں لڑکیوں کو ڈرائیونگ سکھانے لگی۔ میں اپنے کام میں اتنی ماہر ہو گئی تھی کہ پہلے لوگ مجھے میڈم شمیم اور پھر 'بھائی جان‘ کے نام سے پکارنے لگے۔‘‘

شمیم ڈرائیونگ اپنے پیشے کو کام سے زیادہ شوق قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے ڈرائیونگ کے مختلف کورسز کیے اور باقاعدہ ٹرک چلانا بھی سیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب پہلی بار وہ ٹرک ڈرائیور کے طور پر کام لینے گئیں تو مرد ٹرک مالکان نے انہیں کام دینے میں کافی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، ''لیکن جب میرا ٹیسٹ لیا گیا تو انہوں نے میری کافی تعریف کی۔ آج مجھے ٹرک چلاتے ہوئے قریب دو سال ہو گئے ہیں۔‘‘

بہت دھیمے لہجے میں بات کرنے والی شمیم اختر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ اسلام آباد میں میٹرو بس چلانا چاہتی ہیں، ’’میرا انٹرویو ہو چکا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس خواتین کے لیے کوئی کوٹہ مختص نہیں، اس لیے آپ میٹرو بس نہیں چلا سکتیں۔ اگر کبھی خواتین کے لیے کوئی کوٹہ مختص کیا گیا، تو مجھے بلا لیا جائے گا۔‘‘

شمیم اختر اپنے روزگار کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمے داریاں بھی بخوبی نبھاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرک چلاتے ہوئے وہ کبھی نہیں تھکتیں بلکہ اپنے کام سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ مرد ٹرک ڈرائیوروں کے رویے کے بارے میں انہوں نے کہا، ’’اس شعبے میں آپ کا واسطہ زیادہ تر پٹھان افراد سے پڑتا ہے، جو بے حد مہمان نواز اور عزت کرنے والے ہوتے ہیں۔‘‘

شمیم اختر کہتی ہیں، ’’کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا۔ بات صرف لگن، وقت کی پابندی اور محنت کی ہوتی ہے۔ خواتین میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں، جن کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ بڑے سے بڑا کام بھی کر سکتی ہیں۔‘‘

پاکستان کے ہزاروں دیگر ٹرک ڈرائیوروں کی طرح شمیم اختر کو بھی معروف پنجابی لوک گلوکار عطا اللہ عیسٰی خیلوی بہت پسند ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ دوران سفر زیادہ تر وہ اسی گلوکار کے گانے سنتی ہیں۔ شمیم اختر جب بھی کسی سفر پر نکلتی ہیں، تو ان کے ساتھی مرد ڈرائیور عثمان ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتے ہیں، ’’عثمان میرا ساتھی ڈرائیور ہے لیکن وہ میرے بیٹے جیسا ہے۔ بہت طویل سفر پر ہم ہمیشہ وقفے وقفے سے باری باری ڈرائیونگ کرتے ہیں۔‘‘