1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کی وفاقی کابینہ مستعٰفی

پاکستان کی وفاقی کابینہ میں شامل وزراء نے استعفے دے دیے ہیں، جس کے بعد اب ملکی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے لیے ایک نئی اور متوقع طور پر قدرے مختصرکابینہ کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

default

پاکستانی کابینہ میں کئی مواقعوں پر توسیع کی گئی تھی

پاکستان کی سابقہ کابینہ کا شمار دنیا کی چند بڑی کابیناؤں میں ہوتا تھا۔ حکمران اتحاد کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی ترجمان فرح ناز اصفہانی کے بقول ’پاکستان کی اقتصادی صورتحال‘ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وقت کی ضرورت ہے کہ کابینہ چھوٹی ہو۔ سابقہ وفاقی کابینہ62 ممبران پر مشتمل تھی۔

اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کابینہ کو مختصرکرنے کے اس فیصلے کی ایک وجہ اپوزیشن کی مسلم لیگ ن کے مطالبات بھی ہیں۔

Überschwemmungen in Pakistan Flash-Galerie

گزشتہ سال کے سیلاب کے سبب بھی ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگا تھا

کابینہ کے مستعفی ہوجانے کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ایک سابقہ اجلاس میں کیا گیا تھا، جس پر بدھ 9 فروری کو کابینہ کے آخری اجلاس میں عملدرآمد کیا گیا۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اگلے 24 گھنٹوں کے اندر10 سے12اہم وزارتوں کے وزرا کا دوبارہ اعلان کریں گے۔ واضح رہے کہ 18 ویں ترمیم کے تحت آئندہ انتخابات میں کابینہ کا حجم پارلیمنٹ کے ممبران کی کل تعداد کا گیارہ فیصد رکھا جائے گا۔

پاکستان کی معیشت اس وقت بھی بین الاقوامی قرض، امداد اور آئی ایم ایف کے فنڈ کے سہارے پر ہے۔ گزشتہ سال ملک میں آئے سیلاب کی وجہ سے اس جنوب ایشائی ریاست کی معیشت کو مزید لگ بھگ دس ارب ڈالر کا نقصان پہنچا تھا۔

Asif Ali Zardari trifft Nawaz Sharif in Islamabad, Pakistan

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے سرکاری اخراجات میں فوری طور پر تیس فیصد کی کمی کا مطالبہ کیا تھا

پاکستان میں سیاسی استحکام اسٹریٹیجک نکتہ نگاہ سے بھی اہم ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اہم اتحادی ہے، جو خود اپنے یہاں بھی اس مسئلے کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات اٹھا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق کابینہ کے حجم میں کمی سے ملکی اقتصادیات کو لاحق گو ناگو مشکلات فوری اور مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکتیں۔

ایک مالیاتی ادارے Invisor Securities کے ڈائریکٹر آصف قریشی کے بقول اگرچہ اس فیصلے سے سیاسی فضاء کے خوشگوار ہونے کے امکانات موجود ہیں مگر اس سے معیشت پر مثبت اثرات پڑنے کے امکانات کم ہیں۔’’حکومت کو بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ بحال کرنے کے لیے بہت سے دیگر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM