1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کی نو سالہ بچی ونی ہونے سے بچ گئی

پاکستان کی پولیس نے صوبے پنجاب میں ایک نو سالہ بچی کو ونی ہونے سے بچا لیا ہے۔ پولیس نے اس بچی کی شادی کا حکم دینے والی پنچایت کے تمام ارکان کوحراست میں لے لیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے ایک گاؤں میں یہ شادی دونوں خاندانوں کے درمیان ایک تنازعے کو ختم کرانے کے لیے کی جا رہی تھی۔ خاندانی معاملات اور شادی کو رکوانے کے لیے پولیس کی یہ مداخلت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک غیر معمولی عمل ہے۔ یہاں خاندانوں میں تعلقات کو بڑھانے اور لڑائی جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے کم عمر بچیوں کی شادی کروانا ایک عام بات ہے۔

پولیس نے گاؤں کی پنچایت کے چاروں ممبران کو لڑکی کو ونی کر دینے کے جرم میں گرفتار کر لیا ہے۔ ڈپٹی سپراینٹنڈنٹ مامون الرشید نے روئٹرز کو بتایا، ’’ اس نو سالہ لڑکی کے بھائی کی بیوی کچھ ہفتوں قبل ایک بیماری کے باعث ہلاک ہو گئی تھی، لڑکی کے رشتے داروں کو شک تھا کہ اسے قتل کیا گیا ہے، اس معاملے پر 3 مارچ کو گاؤں کی پنچایت نے اس نو سالہ بچی کی ہلاک ہونے والی خاتون کے 14 سالہ رشتہ دار سے شادی کروانے کا حکم دیا تھا۔‘‘

اس پنچایت نے بچی کی شادی کروانے کے ساتھ ہلاک ہونے والی عورت کے شوہر کو عورت کے خاندان کو ڈیڑھ لاھ روپے ادا کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی یونیسیف کے مطابق پاکستان میں 3 فیصد لڑکیوں کی 15 سال سے کم عمر میں شادی کر دی جاتی ہے جبکہ 21 فیصد لڑکیوں کی 18 سال سے کم عمرمیں شادی کر دی جاتی ہے۔

کم عمری لڑکیوں کی شادیوں کا رجحان زیادہ تر غریب خاندانوں میں ہے، جو مالی مشکلات کے باعث لڑکیوں کو بہتر مستقبل نہیں دے سکتے۔ اس برس جنوری میں پاکستان کی با اثرمذہبی ادارے نے ایک بل کو پاس ہونے سے روک دیا تھا جس کے تحت کم عمر بچیوں کی شادی کروانے کے جرم میں سزا بڑھائی جانا تھی۔ موجودہ قانون کے تحت کم عمر دلہنوں کے والدین کو ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانےکی سزا ہوتی ہے۔

DW.COM