1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کی معیشت بہتر ہوئی ہے، ورلڈ بینک

ورلڈ بینک کے مطابق سن دو ہزار اٹھارہ میں پاکستانی معیشت کی سالانہ شرح نمو بڑھ کر پانچ اعشاریہ چار فیصد ہو جائے گی۔ گزشتہ آٹھ برسوں بعد اس سال پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح چار اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

ورلڈ بینک کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں پاکستانی معیشت میں بہتری کی پشین گوئی کی گئی ہے۔ پاکستانی معیشت میں بہتری کی وجہ چین کی طرف سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بتائی گئی ہے۔

پاکستان کو گزشتہ ایک عشرے سے مقامی طالبان کے حملوں کا سامنا رہا ہے اور ملک میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے معیشت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ توانائی کے بحران نے پاکستان کی صنعت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا کی دوسری بڑی معیشت کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب پاکستان میں نہ صرف مقامی عسکریت پسندوں کے حملوں میں کمی واقع ہو چکی ہے بلکہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بھی مثبت پیش رفت جاری ہے۔

اکتوبر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا تھا پاکستان اپنا بیل آؤٹ پروگرام مکمل کرتے ہوئے معاشی بحران سے نکل آیا ہے لیکن اسے ابھی بھی بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

رواں برس جون میں پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح چار اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جو گزشتہ آٹھ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ نواز شریف حکومت نے رواں برس کے لیے ملکی معیشت میں پانچ اعشاریہ سات فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ ہدف حاصل ہو پائے گا یا نہیں۔

چند روز پہلے مالیاتی ریٹینگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوئرز نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری لاتے ہوئے اسے منفی بی سے بی کا درجہ دے دیا تھا۔ اس ایجنسی کا بھی کہنا تھا کہ معیشت کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور اس سے ملک کی ترقی کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اس ایجنسی نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں معیشت میں ڈھانچے کی کمزرویاں بدستور موجود ہیں۔ ابھی پاکستان کو نہ صرف عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا ہے بلکہ ٹیکس کے نظام میں بھی کمزوریاں ہیں۔ پاکستانی معیشت میں بہتری کی ایک وجہ عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتیں بھی ہیں۔