1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کی فوجی امداد پر قدغنیں لگانے کی نئی امریکی کوشش

امریکی قانون سازوں کے مطابق اُنہیں افغانستان کے حقانی نیٹ ورک کی بیخ کُنی میں اسلام آباد حکومت کی ناکامی پر مایوسی ہوئی ہے اور وہ دفاعی پالیسی کے ایک بِل کے تحت پاکستان کی فوجی امداد پر مزید قدغنیں لگانا چاہتے ہیں۔

Repräsentantenhaus Wahl Abstimmung Legislatur Fiskal Klippe USA Washington

امریکی ایوانِ نمائندگان کا ایک منظر

بدھ اٹھارہ مئی کو امریکی ایوانِ نمائندگان میں NDAA یعنی نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کے نام سے 602 ارب ڈالر حجم کے حامل ایک نئے مسودہٴ قانون کی منظوری عمل میں آئی۔ اس کے تحت پاکستان کو 450 ملین ڈالر کی امداد اُس وقت تک کے لیے روک دی جائے گی، جب تک کہ یہ ملک حقانی نیٹ ورک کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کرتا۔ امریکی قانون ساز اس نیٹ ورک کو افغانستان میں موجود امریکی فورسز کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔

اس بِل کے تحت امریکی محکمہٴ دفاع کو یہ تصدیق کرنا پڑے گی کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے فوجی آپریشنز کر رہا ہے، اس نیٹ ورک کو یہ اجازت نہیں دے رہا ہے کہ وہ پاکستانی علاقے شمالی وزیرستان کو ایک ’محفوظ ٹھکانے‘ کے طور پر استعمال کرے اور افغان حکومت کے ساتھ سرگرم رابطے میں رہتے ہوئے سرحد کے آر پار اس نیٹ ورک کے خلاف برسرِپیکار ہے۔

امریکی قانون سازوں نے 2017ء کے لیے اس سالانہ بِل کو حتمی شکل دیتے ہوئے اس میں پاکستان کے حوالے سے تین ترامیم کا اضافہ کیا۔ ان تمام ترامیم کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

ایک ترمیم کے تحت پاکستان کے لیے فوجی امداد کی منظوری کو امریکی انتظامیہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق سے مشروط کیا گیا ہے کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کرنے، اُس کے سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کرنے اور اُن کے خلاف قانونی کارروائی کے ضمن میں پیشرفت دکھائی ہے۔

ایک اور ترمیم کے تحت امریکی سیکرٹری خارجہ کو یہ ضمانت دینا ہو گی کہ پاکستان امریکا کی جانب سے فراہم کردہ فوجی یا غیر فوجی امداد اور ساز و سامان کو اقلیتی گروپوں کے استحصال کے لیے استعمال نہیں کر رہا ہے۔

Jalaluddin Haqqani Netzwerk Terrorismus Pakistan Flash-Galerie

بائیس اگست 1998ء کی اس فائل فوٹو میں حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی نظر آ رہے ہیں

ایک تیسری ترمیم میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایک بین الاقوامی ہیرو قرار دیتے ہوئے اُس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آفریدی نے اُسامہ بن لادن تک پہنچنے کے لیے سلسلے میں امریکی خفیہ سروس سی آئی اے کی مدد کی تھی۔ ایک عسکریت پسند گروپ کی رکنیت کے الزام میں دی جانے والی تینتیس سال کی سزائے قید ختم کیے جانے کے بعد آج کل آفریدی ایک اور فردِ جرم کے تحت مقدمے کی سماعت کا منتظر ہے۔

ابھی یہ بِل حتمی قانون کی حیثیت نہیں رکھتا۔ پہلے اسے سینیٹ کے ایک اور بِل کے ساتھ ملا کر امریکی صدر باراک اوباما کو بھیجا جائے گا، جو اس پر دستخط کر سکتے ہیں یا اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔