1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کی طرف سے بھارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ

پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ پاکستان کے صنعتی اور تجارتی شعبوں پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟ اس سوال پر پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی حلقوں میں زبردست بحث جاری ہے۔

default

بھارت کو پسندیدہ ترین ملک (موسٹ فیورٹ نیشن) کا درجہ دینے کے حوالے سے ملک کے صنعتی اور تجارتی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تاہم اس فیصلے کی حمایت اور مخالفت کرنے والے کاروباری حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں بیوروکریسی کی ڈکٹیشن پر عمل کرنے کے بجائے بنیادی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کاروباری حلقوں کو اعتماد میں لے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں متاثر ہونے والی پاکستانی صنعتوں کے تحفظ کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جانے چاہیئں۔

پاکستان میں موٹر سائیکلیں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی اٹلس ھنڈا لیمیٹڈ کے جنرل مینیجر (کارپوریٹ افیئرز) رضی الرحمٰن نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاک

Händeschütteln zwischen Manmohan Singh und Syed Yousuf Raza Gilani

بھارت پہلے ہی پاکستان کو پسندیدہ ملک کا درجہ دے چکا ہے

بھارت تجارتی تعلقات میں محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں جلد بازی سے فیصلہ کرنے کے بجائے کاروباری برادری کی مشاورت سے ملکی مفاد میں لائحہ عمل بنایا جا نا چاہیے بصورتِ دیگر حکومت کی طرف سے یکطرفہ طور پر کیا جانے والا فیصلہ ملکی صنعتوں کو بند کرانے اور ملک میں بے روز گاری میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

رضی الرحمٰن کے بقول مشکلات میں گھری پاکستانی صنعت کو فوری طور پر بھارت کی مستحکم صنعت کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ملکی مفاد میں نہیں ہو گا۔ ان کے بقول بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے سے پہلے ملکی صنعت کے مفادات کو ضرور پیش نظر رکھا جا نا چاہیے ورنہ آنے والے دنوں میں دو طرفہ تجارتی تعلقات کے بجائے یکطرفہ تجارت ہی ہو رہی ہو گی۔

انہوں نے کہا: ’’بھارت کی طرف سے انیس سو پچانوے میں پسندیدہ ملک کا درجہ پانے والا ملک پاکستان پچھلے مالی سال میں صرف تین سو ملین ڈالر مالیت کی تجارتی اشیا بھارت بھجوا سکا جبکہ پاکستان کی طرف سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ نہ رکھنے والے ملک بھارت نے اسی عرصے کے دوران ایک اعشاریہ چھہ ارب ڈالر مالیت کی اشیا پاکستانی مارکیٹ میں بھیجی ہیں۔ دبئی اور دیگر راستوں سے بالواسطہ آنے والی بھارتی اشیا اس کے علاوہ ہیں۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو پسندید ہ ملک کا درجہ دینے کے باوجود غیر منصفانہ معیارات اورنان ٹیرف رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستانی اشیا کی بھارتی مارکیٹ میں آمد کی حوصکہ شکنی کررہا ہے۔‘‘

رضی الرحمٰن کے بقول ان حالات میں اگر بھارت کو تجارتی اشیا پاکستانی مارکیٹ میں بلا روک ٹوک فلڈ کرنے کی اجازت دے دی گئی تو اس سے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

ادھر ایوان صنعت و تجارت لاہور میں پاک انڈیا ٹریڈ پروموشن کمیٹی کے سربراہ آفتاب احمد وہرہ کہتے ہیں کے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا پہلا فائدہ تو یہ ہو گا کہ یورپی یونین کی طرف سے پاکستانی برآمدکنندگان کو ملنے والی سہولتوں کی بھارت کی طرف سے مخالفت ختم ہو جائے گی۔ ان کے بقول بھارت سے کئی صنعتوں کے لیے خام مال سستے داموں دستیاب ہو سکتا ہے۔ دوسرے ملکوں کی نسبت بھارت سے جلدی اور سستی اشیا درآمد کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ براہ راست تجارت کو فروغ ملے گا۔

Indien Pakistan Außenministerin Hina Rabbani Khar besucht S.M. Krishna in New Delhi

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ دِنوں میں اعلیٰ سطحی رابطوں میں بھی اضافہ ہوا

ان کے بقول بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستانی صنعتکاروں کو اپنی مصنوعات کا میعار بلند کرتے ہوئے مسابقت کے لیے تیار ہونا ہو گا۔‘‘

پہلے پاک بھارت تجارت پازیٹو لسٹ کے مطابق ہوتی رہی ہے آج کل بھارت سے انیس سو اسّی اشیا منگوانے کی اجازت ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب یہ تجارت منفی لسٹ کے تحت ہو گی۔ ان کے بقول پاکستانی حکومت کو اس فیصلے سے متاثر ہونے والی صنعتوں کوفی الحال نیگٹو لسٹ میں رکھ کر آگے بڑھنا چاہیےاور اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

اقتصادی تجزیہ کار منصور احمد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا فیصلہ درست اقدام ہے لیکن دونوں ملکوں کو اس پر نیک نیتی سے عمل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر نان ٹیرف رکاوٹیں اور دونوں ملکوں کے کاروباری لوگوں کے ویزوں پر پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو پھر اس فیصلے کی اہمیت سرکاری فائل میں پڑے کسی کاغذ سے زیادہ نہیں ہو گی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس