1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

پاکستان کی سوا کروڑ خواتین، جو ’ہیں، پر نہیں ہیں‘

پاکستان کی آبادی میں سوا کروڑ کے قریب خواتین ایسی بھی ہیں، جو بطور شہری تو پاکستانی معاشرے کا حصہ ہیں لیکن سرکاری ریکارڈ میں ہونے کے باوجود ’نہیں ہیں‘۔ یہ کئی ملین خواتین الیکشن میں ووٹ بھی نہیں ڈال سکتیں۔

Pakistan nicht registrierte Frauen Wahlen (DW/I. Jabeen )

مجموعی طور پر تازہ ترین ووٹر فہرست میں خواتین ووٹروں کی تعداد مرد ووٹروں کی نسبت بارہ فیصد کم ہے

ان سوا کروڑ کے قریب پاکستانی خواتین کے سرکاری ریکارڈ میں ’ہونے کے باوجود نہ ہونے‘ سے متعلق المیے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب خواتین بالغ ہیں لیکن آج تک ان کے قومی شناختی کارڈ نہیں بنے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ کئی ملین پاکستانی خواتین نہ تو کوئی ایسا کام کر سکتی ہیں جس کے لیے قومی شناختی کارڈ لازمی ہوتا ہے اور نہ ہی وہ قومی یا صوبائی انتخابات میں اپنا ووٹ کا حق استعمال کر سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حال ہی میں رجسٹرڈ ووٹروں کی جو تازہ ترین فہرست شائع کی، اس میں بہت سے اعداد و شمار انتہائی حیران کن ہیں۔

نئی ووٹرز لسٹ کے مطابق ملک میں ووٹ دینے کے اہل شہریوں کی کل تعداد نو کروڑ ستر لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ دو ہزار تیرہ میں گزشتہ قومی انتخابات کے لیے مؤثر ووٹرز فہرست کے مقابلے میں ایک کروڑ دس لاکھ زیادہ ہے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان ستانوے ملین سے زائد ووٹروں میں رجسٹرڈ مرد ووٹروں کی تعداد چار کروڑ بائیس لاکھ ہے۔ یعنی ان رائے دہندگان میں ان کی صنف کی بنیاد پر تعداد میں پایا جانے والا فرق ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد بنتا ہے۔ مجموعی طور پر اس تازہ ترین فہرست میں خواتین ووٹروں کی تعداد مرد ووٹروں کی نسبت بارہ فیصد کم ہے۔ یہ فرق اگلے برس دو ہزار اٹھارہ میں متوقع قومی اور صوبائی انتخابات کے منصفانہ ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دینے کے مترادف ہے۔

اس بارے میں ڈی ڈبلیو نے حقائق جاننے کے لیے جب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد مقصود سے رابطہ کیا، تو انہوں نے کہا، ’’دراصل ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کے لیے قومی شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔ لیکن بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے کئی علاقوں میں خواتین کے شناختی کارڈ بنوائے ہی نہیں جاتے۔ تو ان کی ووٹرز کے طور پر رجسٹریشن کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔؟

محمد مقصود نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہم نادرہ کے ساتھ مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ فوری طور پر ان خواتین کے شناختی کارڈ بنائے جائیں اور جو شاختی کارڈ بنتے جا رہے ہیں، ان کا فوری اندراج ووٹروں کی فہرستوں میں کیا جا رہا ہے۔‘‘

اسی بارے میں جب ڈوئچے ویلے نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر سے گفتگو کی، تو انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ہماری پارٹی نے تو پارلیمنٹ میں ایک بل بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت کسی بھی حلقے میں خواتین ووٹرز کی نمائندگی کم سے کم دس فیصد تک لازمی ہونی چاہیے، ورنہ وہاں ووٹنگ کے نتائج مسترد کر کے دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے۔‘‘

اسی موضوع پر اسلام آباد میں ایک نجی اسکول کی ٹیچر ہما انصاری نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’جب ملکی قوانین کے تحت ہر بالغ شہری کو ووٹ کا حق حاصل ہے، تو اس ملک کی نصف آبادی کے طور پر تمام بالغ خواتین کو ووٹروں کے طور پر رجسٹر کیوں نہیں کیا گیا؟‘‘

اسی بارے میں کشمالہ سعید نامی ایک یونیورسٹی طالبہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بحیثیت ووٹر ان کو ملکی سیاسی جماعتوں سے شدید شکایت ہے کہ وہ ''اس اہم معاملے پر نہ صرف کوئی توجہ نہیں دے رہیں بلکہ ملک کے کچھ علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں تو رجسٹرڈ خواتین ووٹروں کو مختلف انتخابات کے موقع پر ووٹنگ میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خواتین کے حقوق کی نفی اسی طرح کی جاتی ہے۔‘‘

Amer Ejaz Butt (privat)

عامر اعجاز بٹ

پاکستان میں انتخابات پر ریسرچ کرنے والے ادارے انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ (IRADA) کے مطابق ملکی الیکشن کمیشن آئین کی بنیادی شقوں کے تحت سیاسی پارٹیوں کو خواتین ووٹرز کے معاملے میں پابند بنا سکتا ہے۔ ’ارادہ‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’الیکشن کمیشن کو اپنی ایک تجویز کے مطابق اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کسی بھی انتخابی حلقے میں ڈالے گئے مجموعی ووٹوں کی تعداد میں سے اگر کم ازکم تیس فیصد ووٹ خواتین کی طرف سے نہ ڈالے گئے ہوں، تو اس انتخابی حلقے کے نتائج منسوخ تصور ہونے چاہیئں‘‘

پاکستان میں ’کوئلیشن آن الیکشن اینڈ ڈیموکریسی‘ (CED)، جو کہ ملکی سول سوسائٹی کے اداروں کا ایک نیا اتحاد ہے، نے خواتین، مذہبی اقلیتوں اور سماجی طور پر محروم طبقات، جن میں خواجہ سرا اور جسمانی طور پر معذور افراد بھی شامل ہیں، کے انتخابی اور سیاسی حقوق کے حوالے سے ایک نئی مہم کا آغاز کیا ہے۔

اس 'اتحاد برائے انتخابات اور جمہوریت‘ کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر مظلوم اور استحصال کے شکار سماجی طبقات کے جمہوری انتخابی حقوق کو یقینی بنانا ریاست، حکومت، الیکشن کمیشن اور سیاسی پارٹیوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

اس اتحاد کے سربراہ عامر اعجاز بٹ نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’عام انتخابات اگلے سال متوقع ہیں، جن کی تیاری کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ مگر انتخابی اصلاحات سب سے اہم انتخابی مسئلہ ہے، جسے ترجیح دی جانی چاہیے۔‘‘

عامر اعجاز بٹ کا مزید کہنا تھا، ’’ اگر ان ’غائب‘ خواتین ووٹرز کو رجسٹر نہ کیا گیا، تو آئندہ انتخابات کے نتائج خواتین کے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کے آئینہ دار نہیں ہوں گے۔‘‘

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات