1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کی سلامتی کو خطرات کا معاملہ، کیا جنگ کا خدشہ ہے؟

سیاسی سازشی نظریات کی گونج کے ساتھ اب پاکستان میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ملک کی سلامتی کو سنگین خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے ایک حصے نے آج یہ دعویٰ کیا کہ ناصر جنجوعہ نے نواز شریف کو بتایا کہ ملکی سلامتی کو امریکہ اور بھارت کی طرف سے خطرہ ہے۔ روزنامہ ایکسپریس نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف کو بتایا گیا ہے کہ اگلے چند ماہ پاکستان کے لئے اہم ہیں، جن میں پاکستان پر حملہ بھی ہوسکتا ہے۔ جمعرات اٹھائیس دسمبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل غفور نے ایک بریفنگ کے دوران امریکی دھمکیوں کا تذکرہ کیا

چین، پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ مذاکرات

’امریکا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنا لیا ہے‘

پاکستانی معیشت میں بہتری مگر مزید کوششوں پر زور

پاکستانی تعلیمی اداروں کو شدت پسندی سے کیسے بچایا جائے؟
تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستان کو خطرات لاحق ہیں ۔ تاہم کسی جارحیت کا امکان نہیں۔ ان خطرات کے حوالے سے معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کو بہانہ بنایا اور جھوٹ کی بنیاد پر اس عرب ملک پر حملہ کیا، اب امریکہ کی طرف سے پاکستان پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ یہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔‘‘

Pakistan Anschlag auf Polizeischule (picture-alliance/dpa/J. Taraqai)

ایسا بھی تاثر ہے کہ بلوچستان کی سکیورٹی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں

جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب مزید کہتے ہیں، ’’ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ، وزیر خارجہ ٹلرسن، امریکی وزیرِ دفاع جیمس میٹس اور افغانستان میں متعین جنرلز بھی پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں، ان بیانات سے خطرات تو پیدا ہوئے ہیں لیکن پاکستان پر کسی جارحیت کا امکان نہیں۔‘‘ امجد شعیب کا خیال ہے کہ سی پیک کے خلاف کام کیا جائے اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد کر کے گوادر میں مسائل کھڑے کئے جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاِس مقصد کے لئے بھارت سرگرم ہے اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کا مطلب ہوگا کہ پاکستان کی معیشت کو زبردست نقصان ہو۔
کراچی یونورسٹی کے شعبہٴ بین الاقوامی تعلقات کی سابق چیئر پرسن ڈاکڑ طلعت اے وزارت کے خیال میں یہ ممکن ہے کہ امریکہ اور بھارت ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے ذریعے ملک میں گڑ بڑ کرائیں۔ اُن کا کہنا ہے، ’’میرے خیال میں امریکہ کو پہلے ہی بہت سارے چیلنجوں کا سامنا ہے جیسے کہ شمالی کوریا اور ایران، تو کوئی جنگ تو نہیں ہوسکتی۔ تاہم معاشی عوامل کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘

Afghanistan US-Drone MQ-9 Reaper (picture-alliance/AP Photo/US Air Force/Lt. Col. Leslie Pratt)

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکا پاکستان پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر سکتا ہے


تاہم سیاسی مبصر حسن عسکری کے خیا ل میں ٹرمپ شور زیادہ مچاتے ہیں لیکن کام کم کرتے ہیں،’’ میرا نہیں خیال کہ امریکہ کوئی حملہ کرے گا یا کوئی جنگ ہوگی ۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا اور ایران کے حوالے سے بھی بہت شور کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا۔ امریکہ زیادہ سے زیادہ ڈرون حملوں کی تعداد بڑھا سکتا ہے۔‘‘ عسکری کے مطابق اگر اس نے پنجاب یا کہیں اور کوئی حملہ کیا تو پاکستان نیٹو کی سپلائی بند کر سکتا ہے۔

DW.COM