1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کی جنگ کئی محاذوں پر

دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کے بعد پاکستان کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتاجارہا ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پاکستان بہ یک وقت کئی محاذوں پر لڑرہا ہے۔

default

ایک جانب امریکی دباﺅ ہے جبکہ دوسری جانب القاعدہ اور طالبان کی کاروائیاں ہیں۔ اسی طرح پاکستانی عوام کی جانب سے بھی حکومت پراپنی پالیسیوں پرنظر ثانی کیلئے دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ قرارداد کے باوجود امریکی ڈرون حملوں کاسلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف القاعدہ اورطالبان نے اسامہ بن لادن کے قتل کا بدلہ پاکستانی فورسز سے لینے کا اعلان کیا ہے۔

اسی سلسلے میں طالبان کے حملوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چند روز پہلے ایک آرمی ٹریننگ سینٹر پر حملے کے دوران 80 سے زائد افراد ہلاک کر دیے گئے تھے جبکہ گزشتہ رات شبقدر میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر ایک مرتبہ پھر بھرپورحملہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے کراچی سے القاعدہ کے سینئر رہنما محمدعلی قاسم یعقوب عرف ابوشعیب المکی کو گرفتاری کے باوجود معروف تجزیہ نگار اور افغان امور کے ماہر عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اب پاکستان کو داخلی اورخارجی پالیسیوں پرنظر ثانی کرناہوگی ان کا کہنا ہے، ’’اعدادوشمار پرنظر ڈالی جائے تو 2010ءمیں افغانستان اورعراق جنگ میں جتنے لوگ مارے گئے پاکستان میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں مرنیوالوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکہ بدستور پاکستان کے فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ پارلیمنٹ کے متفقہ قرارداد کے باوجود پاکستان انہیں روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس کی وجہ پاکستان کی معیشت کا انحصار امریکی اور عالمی امدادی اداروں پر ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے پاس واحد راستہ یہی رہتاہے کہ وہ افغانستان میں کارروائی کرنے کے لیے جانے والوں کاراستہ روکے “۔

امریکہ کے ایبٹ آباد میں آپریشن کرنے اور پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے واضح موقف سامنے نہ آنے پر عوام اس شک میں مبتلا ہیں کہ ان کی منتخب کردہ حکومت اور فوج انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ اور یہ کہ وہ بیرونی مداخلت کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

اسامہ بن لادن کاپاکستان میں موجود رہنا بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اب تو پاکستان کے انتہائی قریبی دوست ممالک بھی یہی مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ دنیا کو پرامن بنانے کے لیے پاکستان کوموثر اقدامات اٹھانے چاہیں۔

Premierminister John Kerry und Yousaf Raza Gilani in Islamabad Pakistan NO FLASH

پارلیمنٹ کے مشترکہ قرارداد کے باوجود امریکی ڈرون حملوں کاسلسلہ جاری ہے

لیکن بزرگ سیاستدان اورافغان سیاست کے ماہر محمد افضل خان اس بارے میں کہتے ہیں، ”جب تک پاکستان افغانستان اور ہندوستان ایک دوسرے کے گریبان سے ہاتھ نہیں نکالتے تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگران ملکوں نے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا شروع کر دیا تو اس خطے میں مہینوں نہیں بلکہ دنوں میں امن آسکتا ہے“۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تنہا ہونے کی بنیادی وجہ موثر قانون کا نہ ہونا ہے۔ دہشت گردی کے الزام میں پکڑے جانیوالے عدم ثبوتوں کی وجہ سے رہا ہوجاتے ہیں۔ اگر حکومت موثر قانون سازی کرتی اور عدالتوں سے دہشت گردی میں ملوث افراد کو سزا ملتی توآج پورے دنیا میں پاکستان اکیلا نہ ہوتا۔

اس سلسلے میں قانون سازی میں تاخیر کے بارے میں جب صوبائی وزیر قانون بیرسٹر ارشدعبداللہ سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ”صوبہ خیبر پختونخوا میں تقریباً ساڑھے چھ سو لوگوں کو حراست میں لیاگیا ہے۔ جن میں 28 کیسز کی سماعت ہوئی اور زیادہ تر افراد رہا ہو گئے۔ اب ہم دہشت گردی کے خلاف قانون سازی کرچکے ہیں اس قانون کو وفاق نے منظور کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ درخواست کئی ماہ سے سینٹ کی کمیٹی کے پاس پڑی ہیں، جس کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھ سکی “۔

دہشت گردی کے خلاف مختلف علاقوں میں آپریشن تو کیے جاتے ہیں تاہم عدالتی سطح پر عسکریت پسندی میں ملوث افراد کے کیسز مدتوں التواء کا شکار ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی دباﺅ، پاکستان کی افغان پالیسی اور عوام کے غیر ملکی جارحیت پر رد عمل نے پاکستانی حکومت کو ایسے منجدھار میں لا کھڑا کیا، جس سے نکلنے واحد حل پالیسیوں پر نظر ثانی ہے۔

رپورٹ: فریداللہ خان، پشاور

ادارت: امتیاز احمد