1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کسی ایٹم بم سے کم نہیں‘

اپنی آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ملکوں میں شمار ہونے والے جنوبی ایشیائی ملک پاکستان کو مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس وقت پاکستان کی مجموعی آبادی اکیس اور بائیس کروڑ کے درمیان ہے۔

آج منگل گیارہ جولائی کے روز آبادی کا عالمی دن بھی منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سطح پر یہ دن 1989ء سے ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس سال اس عالمی دن کا موضوع صحت سے متعلق سہولیات کا تمام شہریوں تک پہنچایا جانا ہے۔ اس عالمی دن کے منائے جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انسانی آبادی میں اضافے کے سبب بڑھتے ہوئے مسائل سے متعلق شعور میں اضافہ کیا جائے۔

بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق زمین پر انسانی آبادی کافی عرصہ ہوا سات ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ چین اپنی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جس کے بعد بھارت کا نام آتا ہے۔ مجموعی طور پر صرف ان دو ممالک کی آبادی ہی قریب ڈھائی ارب کے برابر بنتی ہے جبکہ پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق کافی زیادہ امکان ہے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی اس وقت بیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں کافی عرصے بعد ابھی حال ہی میں ایک نئی مردم شماری بھی شروع کی گئی تھی، جس کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے۔

اس بارے میں پاکستان کے وفاقی دفتر شماریات کے مردم شماری سے متعلقہ امور کے رابطہ کار حبیب اللہ خٹک نے ملک کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ملک میں شرح پیدائش اور مردم شماری کے لیے فارموں کی چھپائی کی بنیاد پر اب تک جو غیر سرکاری اندازے لگائے گئے ہیں، ان کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی اس وقت ممکنہ طور پر اکیس کروڑ اور بائیس کروڑ کے درمیان بنتی ہے۔ حالیہ مردم شماری کے دوران بڑھتی ہوئی آبادی کا تناسب زیادہ تر دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان قائم رہائشی آبادیوں میں دیکھا گیا۔‘‘

حبیب اللہ خٹک نے بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’جیسے پوری دنیا میں ہوتا ہے، ویسے ہی پاکستان میں بھی بڑھتی آبادی کا حل صرف برتھ کنٹرول پروگرام کی ترویج سے اور عوام میں شعور و آگہی کی زیادہ کامیاب مہم کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔‘‘

ملکی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں وزارت بہبود آبادی کے مرکز کی سربراہ نگہت سعید نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’حکومت برتھ کنڑول پروگرام کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانا چاہتی ہے لیکن ہمارے ہاں آنے والی اکثر ناخواندہ خواتین برتھ کنٹرول کو گناہ سمجھتی ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کی صحت کس قدر خطرے میں رہتی ہے۔ وہ ہر بار ایک نئے بچے کی پیدائش پر خود اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو سکتی ہیں۔ پھر کچھ خواتین ایسی بھی ہوتی ہیں، جو ذاتی طور پر تو مانع حمل ذرائع استعمال کر کے برتھ کنٹرول کا طریقہ اپنانا چاہتی ہیں، لیکن ان کے شوہر یا سسرال والے دباؤ ڈال کر انہیں ایسا نہیں کرنے دیتے۔‘‘

نگہت سعید نے بتایا، ’’برتھ کنڑول پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے اہم ترین بات عوامی شعور کی بیداری ہے، ناخواندگی ختم کرنے کی کوشش کی جائے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جہاں آبادی میں اضافے اور وسائل کی کمی کے باعث مسائل شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘

اسی دوران عالمی یوم آبادی کے حوالے سے پاکستانی صوبہ پنجاب کی وزیر برائے بہبود آبادی ذکیہ شاہنواز نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا، ’’آبادی کے بڑھتے ہوئے طوفان کو روکنا صرف حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے علماء اور دانشوروں سمیت تمام سماجی حلقوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، خاص طور پر ملکی میڈیا کو بھی اس سلسلے میں عوام کو زیادہ باشعور بنانے میں اپنی ذمے داریاں پوی کرنا ہوں گی۔‘‘

پاکستان کی سوا کروڑ خواتین، جو ’ہیں، پر نہیں ہیں‘

ایک پرائیویٹ اسکول کے پرنسپل اور ماہر شماریات شاہد خان نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے ملک کی آبادی میں اضافہ بھی کسی ایٹم بم سے کم نہیں۔ ملکی معیشت مشکلات میں گھری ہے۔ وسائل کی کمی کے باعث عوام کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت تین کروڑ سے زائد پاکستانی خط غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ چھ کروڑ پاکستانیوں کو تو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔‘‘

شاہد خان نے کہا، ’’محکمہ مردم شماری کے گزشتہ اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ملک کی کل آبادی قریب اٹھارہ کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔ پنجاب دس کروڑ آبادی کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ لیکن افسوس کہ آٹھ کروڑ اسی لاکھ افراد کو سینیٹری مسائل کا سامنا ہے۔ چھ کروڑ پچاس لاکھ افراد ایک ایک کمرے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ پانی، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں کا بھی واضح فقدان ہے۔‘‘

پاکستان: مانع حمل مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی

پاکستان جیسے ممالک کی ایسی صورت حال کے پس منظر میں عالمی سطح پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں بے شمار مسائل آبادی میں اضافے سے جڑے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا مسئلہ عام لوگوں کے لیے خوراک کی کمی بھی ہے۔

 دیگر بڑے مسائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ ہی کی ایک اور تازہ رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں اکتیس کروڑ مائیں کسی بھی طرح کی بنیادی طبی سہولیات کی عدم موجودگی میں زچگی کے عمل سے گزرتی ہیں۔ ان میں سے بھی بیس کروڑ سے زائد مائیں تو ایسی ہیں، جو اپنی زندگی میں اوسطاﹰ چار سے چھ بار اس طرح کے خطرناک حالات میں بچوں کو جنم دیتی ہیں۔

DW.COM