1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کی بااثر خواتین

پاکستان کی بااثر اور حوصلہ مند خواتین بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں اور ان کے پاکستانی معاشرے کی ترقی و فلاح میں فعال کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ڈی ڈبلیو نے ایسی ہی چند خواتین کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔

بلقیس ایدھی

پاکستان کی حکومت سے تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی یہ خاتون کئی دہائیوں سے اپنے شوہر عبدالستار ایدھی کے ہمراہ لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہتری لانے میں مصروف عمل ہیں۔ بلقیس ایدھی نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے نہایت پسماندہ، دکھی اور بے سہارا لوگوں کی خدمت میں صرف کر دی ہے۔

نفیس صادق

سن 1987 میں ڈاکٹر صادق اقوام متحدہ میں انڈر سکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔ یہ دنیا کی پہلی خاتون تھیں، جو اقوام متحدہ میں اتنے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔ انہوں نے ماؤں اور بچوں کی صحت اور خصوصاﹰ فیملی پلاننگ کے لیے بے پناہ کام کیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی شمولیت پر زور ڈالا ہے۔

ثمنیہ بیگ

یہ نوجوان خاتون پاکستان کی پہلی خاتون ہیں، یہ کے ٹو، جسے دنیا کا کٹھن ترین پہاڑ سمجھا جاتا ہے، کو بھی سر کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ثمینہ دنیا کے سات بر اعظموں کی سات بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر چکی ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انہوں نے عزم و ہمت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔

شرمین عبید چنائے

شرمین عبید ایک فلم ساز ہیں۔ وہ معاشرتی مسائل پر کئی فلمیں بنا چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی دستاویزی فلموں کے ذریعے پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے اور عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل ایسے موضوعات پر بنائی گئی دو دستاویزی فلموں پر آسکر ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ ان کی کاوشوں کی بدولت آج پاکستانی معاشرے میں ان مسائل کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور ملک میں ان کے حل کے لیے بحث اور قانون سازی کے عمل کا آغاز ہوا ہے۔

ملالہ یوسف زئی

تعلیم کے حصول کی علمبردار ملالہ یوسف زئی اپنی جرات اور بہادری کے باعث طالبان کے ظلم اور بربریت کا براہ راست شکار بنی تھیں۔ دہشت گردانہ حملے میں بال بال بچنے کے بعد ملالہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے انتہائی سر گرم ہیں۔ ملالہ فاؤنڈیشن پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہے۔

منیبہ مزاری

وہیل چیئر تک محدود یہ نوجوان خاتون ایک مصورہ، مقررہ اور گلوکارہ بھی ہیں۔ وہ بچوں اور معذور افراد کے حقوق سے متعلق سماجی منصوبوں پر کام بھی کرتی ہیں۔ ٹانگوں سے محروم ہونے کے باوجود انہوں نے کامیابیوں کو اپنا مقدر بنایا ہے۔

جہاں آرا

جہاں آرا پاکستان سافٹ وئیر ہاؤسز ایسوسی ایشن فار انفارمیشن ٹیکنالوجی( پاشا) کی صدر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کی سافٹ وئیر انڈسٹری کو بین الاقوامی رسائی دلوانے میں یہ اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔ 29 سالہ تجربہ رکھنے والی یہ خاتون ایک انٹرپینوئیر، مقررہ اور سماجی کارکن ہیں۔ یہ معلومات کے تبادلے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کمیونٹیز کو خودمختار بنانے کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔

فریحہ عزیز

فریحہ عزیز ان چند خواتین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے کھل کر ڈیجیٹل رائٹس کی بات کی ہے۔ وہ ’بولو بھی‘ ادارے کی ڈائریکٹر ہیں۔ پاکستان میں یو ٹیوب کی بحالی کے لیے انہوں نے فعال کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے سائبر کرائم بل کے خلاف ایک مہم کی قیادت کی ہے اور حکومت کو اس بل کی موجودہ شقوں کے ساتھ منظور کرنے سے روکنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

پاکستان میں ایسے چند ایک ہی شعبے ہوں گے، جہاں خواتین نظر نہیں آتیں۔ یہ ملک کے تمام بڑے شعبوں، فوج، صحت، تعلیم اور شوبز اور سیاست میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔

روشانے ظفر (سماجی کارکن)، ثنا میر (کرکٹر) ، فضا فرحان(سماجی کارکن)، ماہرہ خان(اداکارہ) ، سلطانہ صدیقی(ٹی وی چینل کی سربراہ )، عائشہ ممتاز (سرکاری ملازم )، مریم سلطانہ (پی ایچ ڈی ایسٹروفزکس) ، اور ان جیسی کئی خواتین اپنے اپنے شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور یہ ثابت کر رہی ہیں کہ پاکستان کی خواتین کو اگر مواقع میسر ہوں تو وہ کامیابیوں اور نئی جہتوں کی اعلیٰ مثالیں قائم کر سکتی ہیں۔

DW.COM