پاکستان کی اولمپکس میں علامتی شرکت کیوں؟ | کھیل | DW | 19.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان کی اولمپکس میں علامتی شرکت کیوں؟

اگلے ماہ برازیل کے ساحلی شہر ریو ڈی جنیرو میں شروع ہونے والے اولمپکس میں پاکستان کی شرکت وائلڈ کارڈ انٹریز تک ہی محدود ہے۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کوئی پاکستانی ایتھلیٹس اولمپک کے لیے کوالیفائی نہیں کر پایا۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سکریٹری خالد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ریو اولمپک میں میڈل کی امید ختم نہیں ہوئی۔ خالد محمود نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی پاکستان کے سات ایتھلیٹس چار کھیلوں یعنی ایتھلیٹکس،جوڈو، سوئمنگ اور شوٹنگ میں حصہ لینے برازیل جائیں گے۔ یہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے مختصر اولمپک دستہ ہو گا۔ تین بار کی چیمپئن ہاکی ٹیم بھی اولمپک سے باہر ہے۔ سرکاری بےاعتناعی اور غلط منصوبہ بندیوں کو ماہرین اس غیر معمولی تنزلی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

شوٹنگ میں غلام مصطفے اور منہال سہیل، سوئمنگ میں حارث بانڈے اور لیانا سوان کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایتھلیٹکس ٹیم کو آخری موقع پرتبدیل کرنا پڑا۔ اب ریو میں محمد اکرم اور ماریہ مراتب کی جگہ محبوب علی اور نجمہ پروین پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ جوڈو میں پاکستان اپنا اولمپک ڈیبیو کرے گا۔ حسین شاہ جو انیس سو اٹھاسی میں باکسنگ اولمپک میڈل جیت چکے ہیں۔ ان کے صاحبزادے شاہ حسین شاہ جوڈو فلور پر پاکستان کے لیے لڑیں گے۔ شاہ حسین شاہ نے براعظمی کوٹے پر اولمپکس تک رسائی حاصل کی ہے۔ خالد محمود کے مطابق شاہ حسین شاہ سے میڈل جیتنے کی ایک آخری امید باقی ہے لیکن یہ جوڈو ڈراز پر بھی منحصر ہوگا۔

پاکستان نے صرف انیس سو اسی کے ماسکو اولمپکس میں حصہ نہیں لیا تھا اور اس اولمپک بائیکاٹ کی وجوہات سیاسی تھیں۔

ہاکی ٹیم ہمیشہ اولمپکس میں پاکستان کی پرچم بردار سمجھی جاتی رہی۔ پاکستان نے انیس سو اڑتالیس کے لندن اولمپکس سے دوہزار بارہ لندن اولمپکس تک جو دس اولمپک میڈل جیتے ہیں ان میں آٹھ بار ہاکی ٹیم نے یہ اعزاز حاصل کیا۔ لیکن اس بار گرین اسٹکس بھی اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکیں۔ نوید عالم پاکستان کی اس ہاکی ٹیم رکن تھے جس نے آخری بار انیس سو بانوے میں اولمپکس میڈل بارسلونا میں جیتا تھا۔ نوید نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’ ہاکی کو گزشتہ سات آٹھ سال سے جس بے دردی سے چلایا گیا ہے، اسی کی وجہ سے ہمیں آج یہ کرب ناک دن دیکھنے کو ملا ہے۔ ہاکی اولمپکس میں پاکستان کی شناخت تھی، جس سے آج ہم محروم ہیں۔ ہمیں فاش غلطیوں کی سزا مل رہی ہے ان غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔‘‘

نوید عالم نے بتایا کہ بارہ سال پہلے ملک میں ایک اسپورٹس پالیسی بنی لیکن آج تک اسکا اولمپک چارٹر کے مطابق اطلاق نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول اسپورٹس حکام کی ترجیحات کو غلط قرار دیتے ہوئے مشہور اولمپئین کا کہنا تھا کہ صرف پنجاب میں تین برسوں میں ڈیڑھ ارب روپیہ میلوں ٹھیلوں پرخرچ کیا گیا مگر بارہ کروڑ آبادی کا صوبہ ایک ایتھلیٹ بھی پیدا نہیں کر سکا، ’’ہمیں موجودہ صورتحال سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے۔‘‘

انیس سو ساٹھ میں روم اولمپکس میں پاکستان نے پہلی اور آخری بار دو میڈل ایک ساتھ جیتے تھے۔ نصیر بندہ کے بھارت کے خلاف فائنل میں تاریخی گول پر اوّلین ہاکی طلائی تمغے کے علاوہ ریسلر محمد بشیر نے بھی کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ اسی زمانے میں فلائنگ بڑد کے نام سے شہرت پانے والے پاکستانی ایتھلیٹ عبدالخالق ناصرف ایشیا کے تیز ترین انسان بنے بلکہ وہ اولمپک سو میٹر میڈل کے بھی قریب پہنچ گئے تھے۔ عبدالخالق کو فلائنگ بڑد آف ایشیا کا خطاب بھارتی آنجہانی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے دیا تھا۔ لیکن اب یہ سب قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ رواں سال کوئی باکسر اور ریسلر اولمپکس میں جگہ نہیں بنا سکا۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سکریڑی خالد محمود کا کہنا تھا کہ ملک میں کھیلوں کی زبوں حالی کا سبب وسائل کی کمی، فیڈریشنز اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا کھیلوں کا بجٹ بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان سے بھی کم ہے اور پھر بھی یہاں اولمپکس میڈل کی توقع رکھی جاتی ہے۔ خالد محمود کے مطابق کسی بھی ملک میں کھیل کا فروغ تعلیم وصحت سے مشروط ہوتا ہے لیکن یہاں یہ دونوں شعبے بدحالی کا شکار ہیں،’’ سکیورٹی اپنی جگہ پر مسئلہ ہے اور اس پر طرہ یہ بھی کہ ملکی آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد کھیلوں کا بجٹ وفاق کی بجائے صوبوں کے پاس چلا گیا جبکہ بدقسمتی سے صوبے اسپورٹس فیڈریشنز کو کچھ دینے پر آمادہ نہیں۔‘‘

ملک کے سب سے معتبر انگریزی اخبار ڈان سے وابستہ سرکردہ اسپورٹس جرنلسٹ محمد یعقوب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اولمپکس کی تیاری کی بجائے موجودہ حکومت نے اپنی تمام توانائی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پر قبضہ کرنے میں جھونک دی۔ سرکاری ادارے پاکستان اسپورٹس بورڈ نے تین قیمتی سال متوازی اولمپکس ایسوسی ایشن بنوانے اور حکومتی حواریوں کو نوازنے پر ضائع کیے۔

اس دوران پاکستان نے انٹرنیشنل اولمپک ایسوسی ایشن کی بھی ناراضگی مول لی اور آخر جب آئی او سی نے پاکستان پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تو اسپورٹس بورڈ جنرل عارف کی اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرنے پرمجبور ہوگیا۔ اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور اولمپکس کی تیاری پر کسی کی توجہ نہ تھی ۔

یعقوب کے بقول اسپورٹس بورڈ بجائے ایتھلیٹس کو غیرملکی کوچز اور سہولیات فراہم کرنے کے یہ تمام پیسہ ادھر ادھر اڑا رہا ہے۔ ملک میں بین الصوبائی گیمز ایک ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں۔ ایسی ہی سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے اگلے اولمپکس میں بھی میڈل کا حصول دیوانے کا خوب ہو گا۔