1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کی انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیاں

ایف آئی اے نے صرف رواں برس کے پہلے دس ماہ میں 75 میں سے 23 انتہائی مطلوب انسانی اسمگلروں اور 1310 ایسے غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے، جو جعلی پاسپورٹس اور ویزوں کے ذریعے بیرون ملک جانا چاہتے تھے۔

کراچی میں منعقدہ دو روزہ ریجنل کانفرنس برائے ’انسانی اسمگلنگ‘ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ معصوم انسانوں کو بہتر زندگی کا جھانسہ دے کر لوٹنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم یو این او ڈی سی کے زیر انتظام منعقد ہونے والی کانفرنس اپنی نوعیت کی ایسی پہلی اعلیٰ سطحی کاوش تھی، جس میں دس ممالک کے ہائی کمشنرز سمیت اور پچاس ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ تمام ممالک یا تو ان اسمگلروں کی اماجگاہ ہیں یا پھر انسانی اسمگلنگ سے متاثرہ ہیں یا پھر ان کی سر زمین انسانی اسمگلنگ کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

اقوم متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم پاکستان کے نمائندے سیزر گیوڈیز نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ کانفرنس کا مقصد مسئلے کے حل کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کو ایک میز پر اکٹھا کرنا تھا تاکہ علاقائی سطح پر باہمی تعاون کو فروغ دیا جاسکے اور انسانی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے نت نئے طریقوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے سیزر گیوڈیز کا کہنا تھا کہ اس وقت 24 لاکھ افراد انسانی اسمگلنگ سے متاثر ہیں، جس میں 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ یہ ہتھیاروں اور منیشیات کی اسمگلنگ کے بعد تیسرا بڑا منظم جرم ہے اور اس وابسطہ افراد 32 ارب ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف اس برس دو لاکھ افراد نے غیر قانونی طور پر بحیرہ روم کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ان میں سے تین ہزار افراد ڈوب کے ہلاک ہوئے۔

کانفرنس میں پاکستانی ڈائریکٹر ایف آئی اے اکبر ہوتی نے بھی شرکت کی، جن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ 1985ء کے بعد پیدا ہوا اور اس کے بنیادی وجہ پہلی افغان جنگ تھی۔ ان کا دعوٰی تھا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کے باعث پاکستان میں انسانی اسمگلنگ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ رواں برس صرف سولہ افراد غیر قانونی طور پر پاکستان سے بیرون ملک جانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ملک کے تمام ایئرپورٹس پر جدید کمپوٹرئزڈ نظام موجود ہے، جو برائے راست نادرا کے نظام سے منسلک ہے اور تقریباﹰ کس کا غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانا ناممکن ہو چکا ہے۔

کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ، سی این این، بی بی سی اور مقامی این جی اوز کی جانب سے تیار کردہ پانچ مختصر دورانیے کی دستاویزی فلمیں بھی دکھائی گئیں، جن میں انسانی اسمگلنگ کے راستوں، اس جرم کے شکار افراد اور ان کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔

پاکستان، آسٹریلیا، کینیڈا، اسپین اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں نے اپنی حکومتوں کی جانب سے اس مسئلے اور اس کے حل کے لئے اپنی حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا اور اس حوالے سے شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔

اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر امیگریشن نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے مسئلہ کے حل کے لئے نہ صرف قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں بلکہ سرحدوں پر بھی انتظامات کو بہتر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں داخلے اور اخراج کے 26 پوائنٹس ہیں جہاں سے رواں برس آٹھ ہزار افراد کے پاکستان میں داخلے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ان کے ملکوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ واجد ضیاء کہتے ہیں کہ پاکستان انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے ایک ایسا ملک ہے، جہاں لوگ غیر قانونی طور پر آتے ہیں اور اسمگلروں کو پیسے دے کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ پاکستان سے آگے جانے کے لئے جعلی پاسپورٹس اور ویزوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے صرف رواں برس کے پہلے دس ماہ میں 75 میں سے 23 انتہائی مطلوب انسانی اسمگلروں اور 1310 ایسے غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے، جو جعلی پاسپورٹس اور ویزوں کے ذریعے بیرون ملک جانا چاہتے تھے۔

واجد ضیاء کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس مسئلے کے حل میں سب سے زیادہ مشکل افغانستان میں حالات کی وجہ سے پیش آرہی ہے جبکہ خطے میں پاکستان کا محل وقوعہ بھی انسانی اسمگلروں کے لئے پر کشش ہے۔