1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پاکستان کی انسانی جینوم ڈی کوڈ کرنے میں کامیابی

پاکستانی سائنسدانوں نے جینیاتی تاریخ میں ایک نیا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے جنییاتی مادے کا نقشہ تیار کرلیا ہے۔ اس حوالے سے نامور پاکستانی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان جینوم ڈی کوڈ کیا گیا ہے۔

default

اس جینیاتی نقشے کی تیاری میں دس ماہ لگے ہیں اور اس پر چالیس ہزار ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔ اس تاریخی کارنامے کے بعد پاکستان انتہائی چیدہ ممالک امریکہ برطانیہ چین جاپان اور بھارت کی صف میں شامل ہوگیا ہے۔

جامعہ کراچی کےبین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی وجینیاتی علوم کےسربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمٰن وہ پہلے پاکستانی ہیں جن کے جینیاتی مادے کا نقشہ دس ماہ کی کوششوں کے بعد پاکستانی سائنسدانوں نے تیار کیا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی شخص کے بارے میں ہر طرح کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے کہ اس شخص کے آبا واجداد کا تعلق کہاں سے تھا؟ اسے کون کون سی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں؟ اور کون کون سے دماغی پیچیدگیاں یا جسمانی تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں؟

جنییاتی نقشہ تیار کرنے والے سائنس دان ڈاکٹر کامران عظیم کا کہنا ہے:’’ اس تحقیق کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ قبل از وقت امراض کی روک تھام ممکن ہوسکے گی۔‘‘

اس تحقیق کے سبب قبل از وقت امراض کی روک تھام ممکن ہوگئی ہے

اس تحقیق کے سبب قبل از وقت امراض کی روک تھام ممکن ہوگئی ہے

ڈاکٹر کامران کا مزید کہنا تھا کہ اس جینیاتی نقشے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں تیار ہونے والے جینیاتی نقشوں میں ستر اجزا یکساں ہیں جو کسی اور جین میں نہیں پائے جاتے، جبکہ ڈاکٹر عطا الرحمٰن کے جینیاتی نقشےسے یہ دلچسپ انکشاف ہوا ان کا ارتقائی دور یورپ سے شروع ہوا تھا۔

اس تحقیق میں ڈاکٹر پنجوانی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ساتھ بیجنگ جینومک انسٹیٹیوٹ نے بھی تعاون کیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم ڈاکٹر پنجوانی انسٹی ٹیوٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران عظیم اور بیجنگ جینومک انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر یانگ ژانگ پر مشتمل تھی۔

سال دوہزار میں امریکہ میں پہلی بار کسی شخص کا جینیاتی نقشہ تیار کیا گیا تھا۔ پاکستان اس سائنسی منصوبے پر کام کرکے دنیا کا چھٹا ملک بن گیا ہے۔ اس میدان میں ترقی کے لیے وسائل اور جدید مشینوں کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے اندر رہتے ہوئے اس طرح کی مذید تحقیق ممکن ہوسکے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM