1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کی امداد بند کی جائے، امریکی ارکان کانگریس

امریکی کانگریس کے ایک پینل نے پاکستان کو دی جانی والی امریکی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسلام آباد کو افغان طالبان کے خلاف جنگی کارروائی کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

'پاکستان دوست یا دشمن‘ کے نام سے کانگریس کی امور خارجہ کی ذیلی کمیٹی کی سماعت کے دوران امریکی کانگریس کے ارکان نے پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ذیلی کمیٹی کے سربراہ میٹ سلمون نے سماعت میں کہا کہ پاکستان ہمیں بے وقوف بناتا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک مافیا کو پیسے فراہم کرتے ہیں۔

ذیلی کمیٹی کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے اقوام متحدہ، کابل اور بغداد میں امریکا کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد، امریکی یونیورسٹی کی پروفیسر ٹرسيا بیکن اور لانگ وار جرنل کے سینیئر ایڈیٹر بل رجيو کانگریس میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران زلمے خلیل زاد نے کہا،’’ افغانستان میں بدامنی کی بنیادی وجہ پاکستان ہے، پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کا استعمال اور بھارت کو دھمکیاں دینا، عالمی سطح پر دہشت گردانہ کاروائیوں کو فروغ دے رہا ہے۔‘‘ خلیل زاد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کانگریس کی اس ذیلی کمیٹی کو دیے گئے بیان کو شائع کیا ہے۔

اس بیان میں خلیل زاد نے کہا ہے کہ پاکستان نہ صرف امریکا بلکہ آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے امداد وصول کرتا ہے۔ ہمیں یہ امداد فوری طور پر ختم کر دینی چاہیے، بلکہ پاکستان کو یہ باور کرانا چاہیے کہ اگر وہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا تو اس پر ایران جیسی پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔

Taliban-Sprecher Sabiullah Mudschahid

افغانستان میں بدامنی کی بنیادی وجہ پاکستان ہے، زلمے خلیل زاد

کمیٹی کی سماعت کے دوران لانگ وار جرنل کے سینیئر ایڈیٹر بل رجيو نے اپنے بیان میں کہا، ’’پاکستانی افواج اور افسران نے القاعدہ کے سینیئر رہنماؤں کو پکڑنے میں مدد فراہم کی ہے لیکن پاکستان اب بھی اس خطے میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنی سرزمین، افغانستان اور بھارت میں دہشت گردوں کی معاونت اور انہیں مدد فراہم کر رہا ہے۔‘‘

امریکی کانگریس کی اس سماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ایک پاکستانی نیوز چینل کو انٹرویو میں کہا، ’’امریکا میں ایک طبقہ ہے جو پاکستان کو ایک دشمن ملک سمجھتا ہے۔ یہ افغانستان اور بھارت کا منفی پراپیگنڈا ہے جس کی وجہ سے امریکی کانگریس کے کچھ ارکان پاکستان مخالف سوچ رکھتے ہیں۔‘‘

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا اب بھی اہم اتحادی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت دار اور دوست ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعاون کو امریکا اور پاکستان کی قیادت کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کانگریس کی اس سماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان نے ٹوئٹ میں لکھا، ’’واشنگٹن میں پاکستان کے لیے انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں لیکن پاکستان جواب دینے کے لیے کیا کر رہا ہے؟‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا، ’’پاکستان پر الزام تراشی کرنے کے بجائے امریکی کانگریس کو امریکا کی پالیسی کی ناکامی کی وجوہات پر توجہ دینی چاہیے۔‘‘

DW.COM