1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کی اسلامائزیشن، ڈکٹیٹر ضیاء الحق سے پہلے اور بعد میں

بہت سے پاکستانی شہری ملک میں انتہا پسندی میں اضافے کا قصور وار سابق آمر جنرل ضیاء الحق کو قرار دیتے ہیں۔ کیا واقعی اس جنوبی ایشیائی ملک کی اسلامائزیشن کے معمار سابق آمر ضیاء الحق ہیں؟

سترہ اگست 1988ء کو سابق جنرل ضیاء الحق اپنے اعلیٰ فوجی حکام اور دو امریکی سفارت کاروں کے ہمراہ ایک پراسرار طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے یہ سابق آمر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک متنازعہ شخصیت بن کر رہ گیا ہے۔ پاکستان کے اس سابق حکمران کے زیادہ تر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حامی انہیں ایک ہیرو کا درجہ دیتے ہیں، ایک ایسا ہیرو، جس نے جنوبی ایشیائی خطے میں وسیع تر سوویت دراندازی کے آگے بند باندھے تھے۔ جب کہ ملک کا لبرل طبقہ انہیں ملک میں اسلامی بنیاد پرستی اور عسکریت پسندی کے عروج کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

ایک پالیسی کا معاملہ

لیکن پاکستانی سیاست پر نگاہ رکھنے والے زیادہ تر محقق ملک کو اسلامیائے جانے کی تمام تر ذمہ داری ضیاء الحق پر نہیں ڈالتے۔ پاکستانی دانشوروں احمد رشید اور اعجاز خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ریاست اور مذہبی انتہاپسندوں کے مابین اتحاد ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی قائم ہو چکا تھا۔

Pakistan Ministerpräsident Zulfikar Ali Bhutto

اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز(آئی پی ایس) کے تجزیہ کار نوفل شاہ رخ کا کہنا تھا، ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ضیاء الحق نے افغانستان میں بھٹو کی اس پالیسی کو جاری رکھا‘‘

اعجاز خان اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں، ’’پاکستانی فیصلہ ساز اتحاد کے لیے مذہبی انتہاپسندوں کو ایک قدرتی انتخاب سمجھتے تھے (خارجہ پالیسی میں ان کا بطور ہتھیار استعمال بھی اسی وجہ سے ہے) امریکا نے بھی سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے دوران اسلامی فورسز کو ایک اچھا اتحادی سمجھا۔‘‘

اسلامی امور کے ماہر اور امریکا میں رہنے والے محقق عارف جمال کہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی عسکریت پسندی کی جڑیں پاکستان کے بانی محمد علی جناح تک جاتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا سیکولر طبقہ محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو دونوں کے سیکولر نقطہء نظر کے حوالے سے ان کی تعریف کرتا ہے لیکن دونوں رہنماؤں نے کشمیر اور افغانستان میں پراکسی جنگیں لڑنے کے لیے جہادیوں کے استعمال کی پالیسی کو اپنایا۔

عارف جمال کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ جناح ہی تھے، جنہوں نے جموں و کشمیر کے مہاراجہ کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وادی میں مجاہدین کو بھیجا تھا۔ بالکل اسی طرح یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جنہوں نے افغان مجاہدین کے رہنماؤں حکمت یار اور ربانی کو پاکستان بلایا تھا تاکہ وہ ہمسایہ ملک کو غیر مستحکم کر سکیں۔ جنرل ضیاء الحق نے تو بس ان پالیسیوں کو جاری رکھا تھا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب 1988ء میں بے نظیر اقتدار میں آئیں تو ان کی بھی یہی پالیسی رہی تھی۔

Radio Pakistan Bilder für Online und Hörfunkbeiträge Urdu Redaktion

اسلامی امور کے ماہر اور امریکا میں رہنے والے محقق عارف جمال کہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی عسکریت پسندی کی جڑیں پاکستان کے بانی محمد علی جناح تک جاتی ہیں

اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز(آئی پی ایس) کے تجزیہ کار نوفل شاہ رخ بھی اس نقطہء نظر سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ضیاء الحق نے افغانستان میں بھٹو کی اس پالیسی کو جاری رکھا، جو انہوں نے بھارت نواز افغان صدر داؤد کے خلاف اپنائی تھی کیوں کہ اس وقت داؤد پاکستان میں دہشت گرد گروپوں کو مدد فراہم کر رہے تھے اور بھٹو نے جواباﹰ اسلامی گروپوں کو مدد فراہم کرنا شروع کر دی۔ سب سے پہلے بھٹو کے دور میں ہی کابل کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے ملٹری ٹریننگ فراہم کی گئی تھی۔‘‘

مقبول مطالبہ اور جغرافیائی سیاست

کچھ تجزیہ کار اس حوالے سے بھی بحث کرتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں ایک اسلامی نظام کا ہمیشہ ہی سے مطالبہ رہا ہے اور کوئی بھی حکمران اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ شاہ رخ کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’ملک کی آزادی کے بعد سے زیادہ تر عوام ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ان عوامی جذبات کا استحصال کیا گیا تھا اور انہیں اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ لیکن پاکستانی معاشرے میں انتہاپسندی میں اضافہ خطے میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان پراکسی جنگ کا براہ راست نتیجہ تھا۔‘‘

Afghanistan Taliban

آج کے پاکستان میں سیکولر سیاست کے لئے بہت ہی کم گنجائش باقی بچی ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنے انقلاب کو ہمسایہ ممالک میں برآمد کرنا چاہتا تھا اور ضیاء کے دور میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی پالیسی اپنائی گئی تھی۔

آج کے پاکستان میں سیکولر سیاست کے لئے بہت ہی کم گنجائش باقی بچی ہے۔ بائیں بازو کے سرگرم کارکن سرتاج خان کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ضیاء الحق نے 1980ء کی دہائی میں وہی کیا، جو اس وقت کی جغرافیائی سیاست کی ضرورت تھی، ’’ لیکن یہ پالیسیاں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف جیسے جانشینوں کے ہاتھوں پروان چڑھیں۔‘‘

سرتاج خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ ابتر حالت کی ذمہ داری مشرق وسطیٰ اور مغرب کی پالیسیوں پر بھی عائد ہوتی ہے، ’’اسلامائزیشن اور دیگر تمام مسائل کی ذمہ داری ضیاء الحق پر ڈال دینا بہت ہی آسان حل ہے اور یہ پاکستانی لبرلز میں فیشن بھی بن چکا ہے کہ سب کچھ ضیاء الحق پر ڈال دو۔‘‘