1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: کیمرون کا بیان زمینی حقائق کے برعکس

پاکستان نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بھارت میں دئے گئے پاکستان اور دہشت گردی سے متعلق بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

default

کیمرون نے اپنے بیان میں پاکستان سے ’دہشت گردی کی برآمد‘ روکنے کا ذکر کیا

ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کے روز بھارتی شہر بنگلور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پر ’’دہشت گردی پھیلانے کا الزام عائد کرنے‘‘ کے علاوہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے طالبان کے ساتھ مبینہ رابطوں کی بھی مذمت کی تھی۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کا بیان وکی لیکس ویب سائٹ پر شائع کی گئی خفیہ رپورٹوں پر مبنی ہے۔ ترجمان کے بقول: ”غلط رپورٹوں سے کبھی بھی درست نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔“

Bhutan - Yousuf Raza Gilani und Manmohan Singh

ماہرین کے بقول کیمرون کا بیان بہتر ہوتے ہوئے پاک بھارت تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ایسی رپورٹوں کی تشہیر نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کس طرح حصہ لے رہا ہے اور پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔

عبدالباسط نے اس موقع پر امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز کے اُس بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

ترجمان نے وکی لیکس کی رپورٹوں کو ’خام خفیہ معلومات‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، اُس کی مسلح افواج اور خصوصاً آئی ایس آئی کے خلاف کئی سالوں سے ایسا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، لیکن اس سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کےخلاف پاکستان کی کوششیں متاثر نہیں ہوں گی۔

Großbritannien Wahlen David Cameron Konservative

ڈیوڈ کمیرون نے بعد ازاں پاکستان کے بارے میں اپنے بیان کا دفاع بھی کیا

برطانوی وزیراعظم نے پاکستان سے متعلق بھارت میں اپنا یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے، جب پاکستانی صدر آصف زرداری چند ہی روز میں برطانیہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے باوجود صدر زرداری طے شدہ پروگرام کے مطابق برطانیہ کا دورہ کریں گے۔

دریں اثناء دفتر خارجہ کے ترجمان نے افغان صدر حامد کرزئی کے پاکستان میں طالبان کے مبینہ ٹھکانوں سے متعلق تازہ ترین بیان کو ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ دو سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی تعاون جاری ہے اور یہ بات افغان حکومت بھی جانتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے کابل میں اپنے سفیر سے کہا ہے کہ وہ ان بیانات کے حوالے سے کابل حکومت سے وضاحت طلب کریں۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس