1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پاکستان : کينسر کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے دس سالوں میں پاکستان میں سرطان کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل ہونے والا اضافہ تشویش ناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی کنسلٹنٹ میڈیکل انکالوجسٹ ڈاکٹر ناہید صدیقی نے بتایا کہ عام طور پر میڈیا رپورٹس میں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں سرطان کے 14 لاکھ مریض ہیں اور ہر سال 80 ہزار لوگ اس بیماری کی وجہ سے اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں سرطان کے مریضوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہے کیونکہ بہت سے کیسز رپورٹ نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر ناہید صدیقی کے بقول پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان کے زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں جبکہ مردوں میں پھیپھڑے اور منہ کے سرطان کی بیماری عام ہے۔ انہوں نے بتايا، ’’اس کے علاوہ سرطان کی چند دوسری بڑی اقسام میں گائنی کا سرطان، جگر کا سرطان ، غدود کا سرطان اور پٹھوں کا سرطان بھی شامل ہیں۔‘‘

ڈاکٹر ناہید صدیقی کے مطابق سرطان کی مختلف اقسام کی علامات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ فیملی میں کینسر کی ہسٹری رکھنے والے یا بڑی عمر کے لوگوں کو بھی کینسر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جسم میں گلٹیاں بننے، السر کی بیماری سے صحت یاب نہ ہو سکنے يا وزن اور بھوک میں کمی ہو جانے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ان کے بقول معاشرے میں غیر معياری کھادوں، زرعی ادویات اور کیمیلکز کا بڑھتا ہوا استعمال بھی کینسر کی بیماری کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ سگریٹ نوشی سے پندرہ قسم کے کینسر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتايا، ’’اپنی صحت کا خیال رکھ کر، ہیپاٹائیٹس اور سرطان کی بیماری کی دستیاب حفاظتی ویکسینیشن لگوا کر، خوراک میں سبزیوں اور فروٹ کا زیادہ استعمال کر کے، ماحول، پانی اور صاف غذا اور صحت مندانہ طرز زندگی یقینی بنا کر کینسر کے امکانات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر ناہید صدیقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے۔ آگہی کا عالم یہ ہے کہ میڈیکل کی کتابوں میں بھی طلبا کے لیے اس بیماری کے بارے میں زیادہ معلومات میسر نہیں ہیں۔

لاہور میں کینسر کی ایک علاج گاہ "انمول" کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابوبکر شاہد نے بتایا کہ کینسر کے علاج میں ایک بہت بڑا مسئلہ اس بیماری کی تشخیص ميں تاخیر ہے۔ ’’خاص طور پر دیہاتی اور دور دراز کے پس ماندہ علاقوں میں لوگ نیم حکیموں سے علاج کرانے میں وقت ضائع کر دیتے ہیں اور جب وہ چوتھی اسٹیج پر ہمارے پاس آتے ہیں تو ان کی بیماری کی شدت میں بہت اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔ اس صورت میں ہمارے پاس ان کے علامتی علاج کے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہوتا۔‘‘

بچوں میں 40 فیصد بچوں کو خون کا کینسر اور 20 فیصد بچوں کو غدود کا کینسر ہوتا ہے

بچوں میں 40 فیصد بچوں کو خون کا کینسر اور 20 فیصد بچوں کو غدود کا کینسر ہوتا ہے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان ایشیا بھر میں چھاتیوں کے سرطان کے مریضوں کی سب سے بڑی تعداد والا ملک ہے۔ یہاں ہر نویں خاتون کو بریسٹ کینسر کے خطرے کا سامنا ہے۔ 40،000 خواتین ہر سال اس بیماری کی وجہ سے اپنی جانيں کھو بیٹھتی ہیں۔ ہر سال 90،000 خواتین اس بيماری ميں مبتلا ہوتی ہيں۔

داکٹر رفیع رضا چلڈرن کینسر ہسپتال کراچی سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 8000 بچے کینسر کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ ان بچوں میں 40 فیصد بچوں کو خون کا کینسر اور 20 فیصد بچوں کو غدود کا کینسر ہوتا ہے۔ ان کے بقول خوش قسمتی سے پاکستان میں بچوں کے اندر کینسر سے صحت یاب ہونے کی شرح قدرے بہتر ہے۔ بر وقت تشخیص والے 60 فیصد بچے صحت یاب ہو جاتے ہیں لیکن دنیا میں یہ شرح 80 فیصد ہے۔ بچوں میں بہت زیادہ چھالیہ کھانے کے رجحان سے بھی کینسر کی بیماری ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی اچھی صحت کے لیے وہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

لاہور کے میو ہسپتال میں کیسر کے علاج کے شعبے میں کام کرنے والے ایک کنسلٹنٹ ڈاکٹر ندیم ضیا نے بتایا کہ پاکستان میں وہ اسکریننگ مشینیں دستیاب نہیں، جن کی مدد سے چالیس سال کی عمر سے پہلے اس مرض کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں لوگوں کو کینسر کی ان اقسام کے بارے میں بھی آگہی حاصل نہیں ہے جن کا علاج ممکن ہے۔

ایک اور طبی ماہر ڈاکٹر اظہار ہاشمی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں کینسر کے علاج کی سہولتیں مطلوبہ تعداد میں میسر نہیں ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں سرکاری سطح پر کینسر کے علاج کے لیے کوئی بڑا ہسپتال موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزيد بتايا کہ پنجاب حکومت ایک کینسر ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔