1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو مزید 300 ملین ڈالر ملنے کا امکان

پاکستان کو امریکہ کی جانب سے 300 ملین ڈالر کی وہ رقم ملنے کا امکان ہے، جو عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ پر اُٹھنے والے اخراجات کی تلافی کے طور پر ادا کی جائے گی۔ اِس مَد میں پاکستان کو اب تک 7.4 ارب ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں۔

طالبان کے خلاف سرگرم پاکستانی فوج

طالبان کے خلاف سرگرم پاکستانی فوج

پاکستان کے معاشی شعبے کے ایک سرکاری عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا:’’پاکستان کو عنقریب 300 ملین ڈالر ملنے والے ہیں۔‘‘ یہ خبر ایک ایسے وقت پر منظرِ عام پر آئی ہے، جب اُسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد آپریشن میں میں ہلاکت کے بعد امریکہ میں پاکستان کو مالی وسائل کی فراہمی پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے یہ وسائل کولیشن سپورٹ فنڈ یا (CSF) کی مَد میں دیے جاتے ہیں اور اِس امریکی پروگرام کا مقصد اُن ملکوں پر پڑنے والے مالی بوجھ کا ازالہ کرنا ہوتا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کوششوں میں شریک ہیں۔

پاکستان اِس جنگ میں 2001ء سے شریک ہے اور اب تک امریکہ سے اس مد میں 7.4 ارب ڈالر وصول کر چکا ہے۔ سرکاری طور پر ان فنڈز کو بیرونی دُنیا کے لیے امریکی امداد میں شمار نہیں کیا جاتا۔

دو مئی کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے قریب امریکی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سےکچھ امریکی عوامی نمائندگان کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا پاکستان واقعی سنجیدگی کے ساتھ عسکریت پسندوں کے خلاف سرگرمِ عمل ہے۔

اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سےکچھ امریکی عوامی نمائندگان کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا پاکستان واقعی سنجیدگی کے ساتھ عسکریت پسندوں کے خلاف سرگرمِ عمل ہے

اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سےکچھ امریکی عوامی نمائندگان کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا پاکستان واقعی سنجیدگی کے ساتھ عسکریت پسندوں کے خلاف سرگرمِ عمل ہے

ان میں سے کچھ امریکی سیاستدانوں نے پاکستان کی امداد معطل کرنے کے لیے کہا ہے تاہم واشنگٹن انتظامیہ نے زور دے کر کہا ہے کہ عسکریت پسندی کے خاتمے اور ہمسایہ افغانستان میں استحکام کے لیے اِس مشکل حلیف کے ساتھ تعاون کے سلسلے کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

امریکیوں نے CSF پروگرام کے تحت دی جانے والی رقوم کے درست ہونے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ 2008ء میں امریکی آڈیٹرز نے کہا تھا کہ ایسے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، جن سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ جن اخراجات کی تلافی کے طور پر یہ فنڈز ادا کیے گئے ہیں، آیا وہ حقائق سے بھی مطابقت رکھتے تھے۔

پاکستان آج کل زر مبادلہ کی شدید کمی سے دوچار ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF کے ساتھ 11.3 ارب ڈالر کے ایک قرضے کی اگلی قسط کے حصول کے لیے مذاکرات میں مصروف ہے۔ اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعے کی وجہ سے یہ مذاکرات بدھ 11 مئی سے پاکستان کی بجائے دبئی میں منعقد ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اِس قسط کے اجراء کے لیے پاکستان پر آئندہ بجٹ میں زیادہ سے زیادہ اصلاحات کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں IMF نے پاکستان کی طرف سے وعدے کے مطابق اصلاحات کو عملی شکل نہ دینے کی پاداش میں فنڈز کی ادائیگی روک دی تھی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس