1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو خطرہ لیکن جوہری ہتھیار محفوظ، امریکہ و برطانیہ

امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان کے فوجی ہیڈکوارٹرز پر شدت پسندں کے حملے کی مذمت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور ان کے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ شدت پسند پاکستان کے لئے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

default

ہلیری کلنٹن اور ڈیوڈملی بینڈ

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ شدت پسند ریاستی انتظام کے لئے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں اور یہ بات پاکستان کے فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملے سے ایک مرتبہ پھر واضح ہو گئی ہے۔ وہ لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ ملی بینڈ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ تاہم ہلیری کلنٹن نے اسلام آباد حکام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے

Rawalpindi Pakistan

راولپنڈی حملے میں 19افراد ہلاک ہوئے

کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری املاک پاکستانی حکومت اور فوج کے انتظام میں ہیں اور واشنگٹن حکومت کو اس بات کا یقین ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ شدت پسندوں کے ریاست پر قابض ہو جانے کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ہیں۔

شدت پسندوں کی جانب سے ملک کو درپیش خطرے کے تناظر میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ پاکستان کو انتہائی خطرے کا سامنا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا کہ تھا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے لئے کسی خطرے کے شواہد نہیں ہیں۔ ملی بینڈ کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ اس موضوع پر بحث میں تیزی نہ آئے۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کا طالبان کے خلاف مشترکہ عزم مضبوط اور واضح ہے اور وہ نئی افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔

ہفتہ کونو شدت پسندوں نے پاکستانی فوج کے صدر دفاتر پر حملہ کر دیا تھا، جن میں چار اسی دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم پانچ شدت پسندوں نے عمارت میں داخل ہو کر تقریبا 42 افراد کو یرغمال بنایا لیا تھا۔ یہ سلسلہ تقریبا چوبیس گھنٹے تک جاری رہا۔ تاہم پاکستانی فوج نے اتوار کی صبح حتمی آپریشن کے نتیجے میں یرغمالیوں کو رہا کرا لیا۔ اس دوران تین یرغمالی، دو فوجی اور چار مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے، جبکہ ایک شدت پسند کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM