1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے امریکی خفیہ سفارت کاری

امریکہ نے 1970ء کے عشرے میں پاکستان کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کے لیے ایک خفیہ سفارتی مہم شروع کی تھی جس میں مغربی ملکوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی برآمدات پر کنٹرول کریں۔

default

امریکی حکومت کی جانب سے عام کی جانے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق، نومبر 1978ء کے ایک خفیہ مراسلے میں اس وقت کے وزیر خارجہ سائرس وینس نے مغربی یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان یا اس کے خفیہ ایجنٹوں کی جانب سے جوہری مواد کے حصول کی کوششوں کے بارے میں ان حکومتوں کو خبردار کریں۔

وینس نے تسلیم کیا کہ پاکستان اپنے روایتی حریف بھارت کے جوہری پروگرام پر خدشات کے باعث اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے، جنہیں بعد میں ایک فوجی انقلاب میں وزارت عظمٰی سے ہٹا دیا گیا تھا، کہا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا میں جوہری ہتھیار تقسیم کرے گا۔

Zulfikar Ali Khan Bhutto

ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا میں جوہری ہتھیار تقسیم کرے گا۔

وینس نے اپنی تحریر میں لکھا کہ خطے کے استحکام اور ہمارے جوہری عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے لیے پاکستان کو جوہری دھماکے کی صلاحیت سے روکنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران برطانیہ بھی ایک متوازی مہم چلا رہا تھا اور اس نے انورٹروں کی برآمد پر پابندی عائد کر دی اور دوسرے ملکوں کو بھی اس کی تلقین کی۔ انورٹر بنیادی طور پر اعلٰی افزودہ یورینیم کو تیار کرنے والی سینٹری فیوجز میں استعمال ہوتے ہیں۔

ایک اہم صنعتی برآمد کنندہ ملک اس وقت کے مغربی جرمنی نے اصرار کیا کہ اس نے پہلے ہی مناسب حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں۔

تاہم پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا کام جاری رکھا اور 1998ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکے کے ردعمل میں ایٹم بم کا تجربہ کیا۔ بم تیار کرنے والے پاکستانی سائنس دان عبد القدیر خان کو ہالینڈ میں اپنے قیام کے دوران حساس ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل رہی تھی۔

ڈاکٹر خان نے 2004ء میں اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت میں ملوث تھے اور انہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری راز فروخت کیے تھے۔ تاہم پاکستان میں ہیرو کا درجہ حاصل کرنے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا اور 2009ء میں ان کی نظربندی ختم کر دی گئی۔

Abdul Qadeer Khan

جوہری بم تیار کرنے والے پاکستانی سائنس دان عبد القدیر خان کو ہالینڈ میں اپنے قیام کے دوران حساس ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل رہی تھی۔

دستاویزات میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان ری پراسسنگ پلانٹ پر کام جاری رکھنا چاہتا تھا۔ فرانس نے ابتدا میں اس منصوبے کی حمایت کی تھی مگر بعد میں وہ ان خدشات کی بناء پر اس سے پیچھے ہٹ گیا کہ اسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

نائب وزیر خارجہ وارن کرسٹوفر نے ایک خفیہ مراسلے میں لکھا کہ انہوں نے امریکی کانگرس پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو اقتصادی امداد کی فراہمی اور فوجی سامان فروخت کرنے پر غور کرے کیونکہ وہ سرد جنگ میں امریکہ کا اتحادی تھا۔ کرسٹوفر کے بقول امداد سے پاکستان کی اس کشیدگی اور احساس تنہائی میں کمی آئے گی جس کے باعث اسے جوہری میدان میں خفیہ پیشقدمی کی تحریک ملی ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM