1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو توانائی کی پیداوارمیں مشکلات اور چین

پاکستان کو درپیش توانائی کے بحران کا اندازہ ان سرکاری اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جن کے مطابق اس وقت ملک کو تقریباً 4000میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔

default

پاکستانی صدر آصف علی زرداری

توانائی کی کمی کے مسائل نےعام گھریلو صارف سے لے کر بڑی صنعتوں اورکارخانوں تک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

Stadt Lahore in Pakistan, Elektrizitätskrise

بجلی کی مسلسل کمی کے باعث ملک میں جنریٹرز کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا

بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ اور نرخوں میں اضافے سے صنعتی یونٹوں کی کاروباری لاگت میں اضافے اور پیداوار میں کمی نے بھی ملکی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ اسی بحران کے سبب رواں سال میں صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں کم از کم 5 ارب ڈالر مالیت کے بیرونی آرڈر بھی منسوخ ہو چکے ہیں۔سابقہ حکومتوں کی کوتاہ اندیشی اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث پاکستان کو اس وقت جو مشکلات درپیش ہیں مستقبل قریب میں بھی ان سے چھٹکارہ ممکن نظر نہیں آ رہا۔ غالباً صورت حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ہی صدر آصف علی زرداری نے چین کا جو سرکاری دورہ کیا ہے اس میں توانائی کے حصول کے لئے معاہدوں اور سمجھوتوں کی یادداشتوں پر دستخطوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ انہی میں سے ایک معاہدے کے تحت چین پن بجلی کی پیداوار کے لئے پاکستان کو فنی اور تربیتی معاونت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ اس دورے میں چین سے جوہری توانائی کے سمجھوتوں کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

Stadt Lahore in Pakistan, Elektrizitätskrise

لاہور کے تاجر لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

اس حوالے سے اسلام آباد میں چائنیز سٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر فضل الرحمن نے بتایا:’’یقیناً چین پاکستان کا ایک دوست ملک ہے جو کہ توانائی کے شعبے پاکستان کے ساتھ بہت معاونت کرتا چلا آ رہا ہے۔ یہ ایک پراسس کا حصہ ہے جس میں پاکستان چائنہ کی ان کمپنیوں کو پاکستان آنے کی دعوت دے رہا ہے جو انویسٹمنٹ بھی کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ماحول کے ساتھ ہائیڈرو الیکٹریسٹی بھی پیدا کریں۔ تین بڑے ڈیموں کی انتظامیہ کے ساتھ انہوں نے مفاہمت کا ایک معاہدہ کیا ہے جس میں وہ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں مدد فراہم کریں گے۔‘‘

یاد رہے کہ پاکستان اس وقت ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے صرف34% بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ موجودہ حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ جلد یہ پیداواری حجم %68 ہو جائے گا۔ تاہم مبصرین کے خیال میں تمام سرکاری دعوے اور منصوبے ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کے بغیر شاید حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔