1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو بلوچستان میں مظالم کا جواب دینا ہو گا، مودی

بھارتی وزیراعظم نیرندر مودی نے یوم آزادی پر اپنے خطاب میں پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سے بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں کیے جانے والے مظالم کا جواب طلب کیا جائے۔

پیر کے روز بھارتی یوم آزادی کے موقع پر نئی دہلی کے لال قلعے میں اپنے خطاب میں وزیراعظم مودی نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جاری پرتشدد واقعات کا براہ راست تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردی کا مددگاروں‘ کو کڑے ہاتھوں لیا جائے گا۔

مودی نے اپنے خطاب میں قومی یکجہتی کی اپیل کی۔ گزشتہ تین برسوں میں یوم آزادی کے موقع پر مودی کی یہ سب سے طویل تقریر تھی، جو 94 منٹ تک جاری رہی۔

مودی نے اپنے خطاب میں اپنی حکومت کی کارکردگی اور خارجہ پالیسی پر بات کی، تاہم اس تقریر میں مرکزی نکتہ پاکستان اور دہشت گردی تھا۔

اپنے خطاب میں مودی کا کہنا تھا، ’’یہ کیسی زندگی ہے، جو دہشت گردی سے متاثر ہے۔ یہ کیسی حکومت ہے، جو دہشت گردی سے متاثر ہے۔ دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے اور میرے لیے یہ کافی ہو گا۔‘‘

ان کا بلوچستان کے حوالے سے کہنا تھا، ’’میں اب کچھ بات بلوچستان، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر پر کرنا چاہتا ہوں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بلوچستان اور اپنے زیرقبضہ کشمیر کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا جواب دے۔‘‘

Pakistan weitere Proteste in Srinagar

کشمیر میں گزشتہ چھ ہفتوں سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے

یہ غیرعمومی بات ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے کسی دوسرے ملک کے کسی علاقے کے حوالے سے اس طرح بات کی ہے۔ ’’دنیا دیکھ رہی ہے۔ بلوچستان، گلگت اور پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر کے لوگوں نے پچھلے کچھ دنوں میں میرا بہت شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ فخر کا موقع ہے کہ ان لوگوں نے بھارت کی جانب مدد کے لیے دیکھا ہے۔‘‘

بھارتی وزیراعظم کے اس خطاب کو پاکستانی رہنماؤں کے ان حالیہ بیانات پر ردعمل قرار دیا جا رہا ہے، جن میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی آزادی کے مطالبے کیے گئے تھے۔

جوہری صلاحیت کے حامل ان دونوں ممالک کے درمیان لڑی جانے والی تین میں سے دو جنگوں کی وجہ کشمیر کا متنازعہ علاقہ رہا ہے۔

دوسری جانب مودی کے خطاب کے وقت بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا گیا۔ اس واقعے میں سات سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر بھارتی فوج کی جانب سے کہا گیا ہےکہ دو عسکریت پسندوں کو پاکستان سے بھارت میں دراندازی کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔

یہ بات اہم ہے کہ جولائی کی آٹھ تاریخ کو علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ایک ہلاکت کے بعد کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جو تاحال جاری ہے۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 54 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ہفتوں سے سخت کرفیو نافذ ہے۔