1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت پر امریکی سینیٹرزکی تشویش

امریکی سینیٹر جان مکین نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ سے کہا ہے کہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی ممکنہ فروخت کے حوالے سے خصوصی سماعت کی جائے۔ اب اِس تشویش میں کچھ سنیٹرز بھی شامل ہو گئے ہیں۔

امریکی سینیٹ کی ’آرمڈ سروسز کمیٹی‘ کے چیرمین سینیٹر جان مکین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی انتظامیہ کی پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیارے فروخت کرنے کے فیصلے اور اس کے امریکا اور بھارت کے تعلقات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ پاکستان اور امریکا کے درمیان ہونے والی اِس ڈیل پر عمل اگلی حکومت کے دور میں ہونا چاہیے۔‘‘ جان مکین کی رائے میں اس حوالے سے سینیٹ میں ہونے والی بحث سینیٹرز کو اس ڈیل کے بارے میں تفصیلات جاننے اور اس سے متعلق فیصلہ کرنے کا موقع دے گی۔

اوباما انتظامیہ کی جانب سے رواں برس 12 فروری کو اعلان کیا گیا تھا کہ واشنگٹن حکومت نے پاکستان کو 8 اضافی ایف 16 طیارے ، راڈار اور دیگر عسکری آلات فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس ڈیل کی کل لاگت 699 ملین ڈالر ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان اور امریکا کی اس ڈیل پر شدید نکتہ چینی کی جا چکی ہے۔

جان مکین کے علاوہ امریکی سینیٹر رانڈ پال بھی پاکستان اور امریکا کی اس ڈیل کے مخالف ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رانڈ پال نے بتایا کہ انہوں نے امریکی سینیٹ میں پاکستان کو اسلحہ اور جنگی سازوسامان نہ فروخت کیے جانے کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کر دی ہے۔ اگر اس قرارداد کو منظور کر لیا گیا تو امریکا اور پاکستان کی ایف 16 طیاروں کی ڈیل پر عمل نہیں ہو سکے گا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ڈیوڈ میک کیبی نے پاکستان اور امریکا کی اس ڈیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف 16 طیاروں کی ممکنہ فروخت پاکستان میں جاری انسداد دہشت گردی کی کاروایوں میں مدد فرام کرے گی۔ میک کیبی کے مطابق یہ ڈیل پاکستان، امریکا، نیٹو اور اس خطے سے جڑے مشترکہ مفاد کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ پاکستان کے موجودہ ایف 16 طیاروں کے دستے نے فوجی آپریشنز میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی آپریشن میں ان کے استعمال نے عسکریت پسندوں کی پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کی صلاحیت کو کم کیا ہے۔‘‘

امریکی سینیٹ میں اس ڈیل کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے بارے میں ڈیوڈ میک کیبی کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ سینیٹرز کے تحفظات دور کرنے کے لیے اُن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔ امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیرمین باب کورکر نے اوباما انتظامیہ کو اس ڈیل کے تحت طیارے فروخت کرنے کی اجازت تو دی تھی لیکن اِس شرط کے ساتھ اوباما انتظامیہ پاکستان کو فراہم کیے جانے والے جنگی طیاروں کی فروخت میں امریکی خزانے سے کوئی رقم حاصل نہیں کرے گی۔

DW.COM