1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی کی مخالفت مسترد

امریکی سینیٹ نے ایک ایسی کوشش کا راستہ روک دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی فروخت کو روکنا تھا۔ سینیٹ میں یہ قرارداد ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

امریکی سینیٹ میں پاکستان کے ساتھ ایف سولہ جنگی طیاروں کی فروخت کے معاہدے کے خلاف پیش کی جانے والی قراردار کے حق میں صرف چوبیس ووٹ پڑے جبکہ اکتہر ارکان نے اس کے خلاف یعنی اس معاہدے کو پایہ تکمیل پہنچانے کے حق میں ووٹ دیا۔ سینیٹر رینڈ پال چاہتے تھے کہ آرمز کنٹرول ایکٹ نامی قانونی سازی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو ان طیاروں کی فروخت کی مخالفت کر رہے تھے۔ پال نے اپنی قرارداد میں پاکستان کو ایک ’ناقابل بھروسہ‘ ساتھی قرار دیا ہے۔

پال نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’ گو کہ امریکا انسداد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستانی حکومت کو اپنا ایک ساتھی سمجھتی ہے لیکن پاکستان کا طرز عمل کچھ اور ہی طرح کا ہے۔‘‘

Sicherheitsvorkehrungen über Rom: Flugzeug F 16 der italienischen Air Force

امریکی صدر باراک اوباما نے رواں برس بارہ فروی کو پاکستان کو ایف سولہ کے علاوہ ریڈار اور دیگر عسکری آلات فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے فوری بعد بھارت کی جانب سے اس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا جبکہ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

چند امریکی ارکان کانگریس پاکستان کے جوہری پروگرام، انسداد دہشت گردی کے اقدامات اور افغان امن عمل میں تعاون کے بارے میں اسلام آباد حکام پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔

ریپبلکن سینیٹر بوب کورکر نے کہا کہ وہ اپنے ذاتی اثر و رسوخ کے ذریعے یہ کوشش کریں گے کہ سینیٹ کے چیئرمین کسی بھی قسم کے امریکی فنڈ کو اس معاہدے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا، ’’ ٹیکس دہنندگان کی رقم سے دی جانے والی یہ رعایت روک دینے سے پاکستان کو یہ پیغام ملے گا کہ اسے پہلے اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو اس پیغام کی اشد ضرورت بھی ہے۔‘‘

سات سو ملین ڈالر کی مالیت کے اس معاہدے کے تحت امریکا پاکستان کو آٹھ ایف سولہ طیارے فروخت کرے گا۔