1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کو اصل خطرہ بھارت سے نہیں: اوباما

امریکی صدر باراک اوباما کے مطابق پاکستانی فوج کو احساس ہو نا شروع ہوگیا ہے کہ ملک کو سب سے بڑا خطرہ جنگجوؤں سے ہے نہ کہ بھارت سے۔

default

امریکی صدر بارک اوباما نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا ، وہ پُر اعتماد ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا، پاکستانی فوج اس بات کو جانتی ہے کہ اگر یہ ہتیھار غلط ہاتھوں میں گئے تو یہ کتنا بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔

صدر اوباما نے کہا، گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستانی فوج کی طرف سے جنگجوؤں کے خلاف سخت کارروائی فوج کے اندر اِس احساس کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو خطرہ دراصل اندرونی عناصر سے ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت سے خطرہ محسوس کرنا ایک خبط ہے جو صرف ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔

صدر باراک اوباما کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ہے جب پاکستانی افواج نے مالاکنڈ ڈویژن کے ایک اہم ضلع بونیر میں عسکری کارروائی کرتے کم ازکم پچاس جنگجو ہلاک کر دیے۔

Joe Biden Bildergalerie Kabinett

امریکی نائب صدر نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کو اصل خطرہ بھارت سے نہیں انتہا پسندی سے ہے

صدر اوباما نے کہا کہ وہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا، یہ تشویش اس لئے نہیں کہ طالبان ممکنہ طور پر پاکستان پر قبضہ کر لیں گے، بلکہ اُنہیں تشویش اس بات پر ہے کہ پاکستان میں موجودہ عوامی حکومت بہت کمزور ہے۔

صدر اوباما نےکہاکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کی حکومت صحت، تعلیم، نفاذ قانون اور انصاف جیسی بنیادی خدمات سر انجام دینے کی اہل نہیں ہے۔

اس سے قبل امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے بھی ایسےہی خیالات کااظہار کیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو بھارت سے بے جا طور پر خوف محسوس نہیں کرنا چاہئے بلکہ پاکستان کو اصل خطرہ ، بیت اللہ محسود، القاعدہ اور جنگجوؤں سے ہے۔

سوات وادی کے ہمسایہ اضلاع دیر اور بونیر میں جنگجوؤں کی آمد کے بعد سے واشنگٹن میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جوہری طاقت رکھنے والا ملک پاکستان مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

ان اضلاع میں فوجی کارروائی کے باوجود امریکی دفاعی افسران شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ کیا پاکستانی افواج ان جنگجوؤں کی پیش رفت کو روک سکیں گے یا نہیں۔

Pakistan Asif Ali Zardari neuer Präsident

امریکی صدر نے پاکستانی عوامی حکومت کو کمزور قرار دیا ہے

صدر اوباما 6 اور 7 مئی کو پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی سے ایک مشترکہ ملاقات کرنے والے ہیں،جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید مؤثر بنانے کے علاوہ دیگر کئی اہم امور پر بھی گفتگو متوقع ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اپنے ہزاروں فوجی دستے بھارت کے ساتھ ملحقہ مشرقی سرحد پر تعینات کر رکھے ہیں جبکہ اسلام آباد حکومت پر واشنگٹن کی طرف سے دباؤ ہے کہ وہ مشرقی سرحد سے اپنے فوجی نکال کر ان فوجیوں کوافغان مغربی سرحد پر تعینات کرے تاکہ طالبان باغیوں اور القاعدہ کے جنگجوؤں سےمقابلہ کیا جا سکے۔

عاطف بلوچ/ امجد علی