1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کوئی دہشت گرد ملک نہیں، جرمن تھنک ٹینک

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکی حکومتی حلقوں میں پاکستان کی امداد بند کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟

default

جرمن تھنک ٹینک SWP کے شعبہ جنوبی ایشیا کے سربراہ کرسٹیان واگنر

جرمن تھنک ٹینک SWP کے شعبہ جنوبی ایشیا کے سربراہ کرسٹیان واگنر کے ساتھ ڈوئچے ویلے کا خصوصی انٹرویو۔

ڈوئچے ویلے: اگر امریکہ پاکستان کی اربوں ڈالر کی امداد روک لیتا ہے تو آپ کے خیال میں پاکستان کی صورتحال کیا ہو گی؟

کرسٹیان واگنر: اگر امداد بند ہوئی تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے ساتھ ساتھ اندرونی عدم استحکام کا بھی شکار ہو سکتا ہے اور یہ امریکہ کے مفاد میں بھی نہیں ہو گا۔ پاکستان پہلے ہی سے حالیہ سیلاب اور اندرونی سیاسی خلفشار کی وجہ سے معاشی طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ پاکستان کو اس وقت عالمی طاقتوں اور خاص طور پر امریکی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

ڈوئچے ویلے: پاکستان کو ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد کہاں جاتی ہے؟

کرسٹیان واگنر: یہ ایک مشکل سوال ہے، جو دو طرفہ تعلقات پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ امدادی رقوم کا بڑا حصہ پاکستانی فوج کو جاتا ہے۔ آرمی کی طرف سے بھی اکثر ایسے ثبوت مہیا نہیں کیے جاتے، جن سے یہ پتہ چلتا ہو کہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔ اس بات کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے کہ پاکستان میں امدادی رقوم کس طرح خرچ کی جاتی ہیں اور کس کی جیب میں جاتی ہیں۔

پاکستان میں خود کُش حملے روزانہ کا معمول بن چکے ہیں

پاکستان میں خود کُش حملے روزانہ کا معمول بن چکے ہیں

ڈوئچے ویلے: کیا پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے؟

کرسٹیان واگنر: نہیں، پاکستان ہرگز دہشت گرد ملک نہیں ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف انتہائی زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان تو بذات خود دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حق میں ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی علاقوں میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ پاکستانی افواج افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستانی فوج نے ہمیشہ عسکری مذہبی عناصر کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن یہ پالیسی اب ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستانی طالبان کے چند گروپ افغان طالبان سے علیٰحدہ ہو چکے ہیں اور سن 2004 سے پاکستانی فوج کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ لشکر طیبہ اور اس جیسی دوسری تنظیموں کے کئی ارکان انہیں چھوڑ کر پاکستانی طالبان کے ساتھ مل چکے ہیں۔ سن 2007 سے القاعدہ بھی پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کر چکی ہے۔ جن عسکریت پسند گروپوں کی کئی برسوں سے مدد کی جا رہی تھی، اب وہ پاکستان کے ہی خلاف ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف ابھی پاکستانی سکیورٹی فورسز میں ان لوگوں کے لیے ہمدردیاں موجود ہیں۔ ابھی بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان عسکری جماعتوں کو بھارت اور افغانستان کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈوئچے ویلے: اس امر کے کس قدر امکانات ہیں کہ پاکستانی خفیہ ادارے کے کچھ ارکان اپنی فوج کی پالیسیوں سے اس حد تک الگ راہ اختیار کر چکے ہیں کہ اسامہ بن لادن جیسا اہم آدمی ابیٹ آباد سے ملتا ہے؟

کرسٹیان واگنر: پاکستان کئی مرتبہ یہ اعتراف کر چکا ہے کہ سابق فوجی اور آئی ایس آئی کے سابق اہلکار اپنی ہمدردیاں تبدیل کر چکے ہیں۔ سابق جنرل پرویز مشرف پر حملوں ہی سے پتہ چلتا ہے کہ ان کارروائیوں میں فوجی عناصر شامل تھے۔ یہ اندازہ لگانا اب بہت ہی مشکل ہو چکا ہے کہ کون سی کارروائی کس نے کی ہے، کیا آئی ایس آئی ملوث تھی یا اس کے چند اہلکار یا پھر سابق فوجی کچھ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟

ڈوئچے ویلے: کیا اس بات کے کوئی ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج میں اسلامی رجحانات کے حامل افراد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے؟

کرسٹیان واگنر: اگر ہم فرض کریں کہ فوج معاشرے کا عکس ہوتی ہے تو پاکستانی فوج میں زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 فیصد اسلام پسند ہو سکتے ہیں لیکن یہ ایک صرف ایک مفروضہ ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

ڈوئچے ویلے: پاکستانی آرمی کو ’ریاست کے اندر ریاست‘ بھی کہا جاتا ہے۔ آصف علی زرداری کی حکومت کا کیا کردار ہے؟

کرسٹیان واگنر: آصف علی زرداری کی حکومت مشکل حالات میں ہے۔ پاکستانی خارجہ پالیسی اور سکیورٹی کے معاملات اعلیٰ فوجی سطح پر طے کیے جاتے ہیں۔ بھارت، افغانستان اور امریکہ سے متعلق سیاسی حلقوں کی بجائے پاکستانی آرمی کے فیصلے قبول کیے جاتے ہیں۔

ڈوئچے ویلے: کیا پاکستان ایک ناکام ریاست ہے؟

کرسٹیان واگنر: میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے یا ہو گی۔ پاکستان نہ تو غزہ ہے اور نہ ہی صومالیہ۔ غزہ پٹی کے برعکس پاکستان میں اسلامی تنظیمیں اس قدر مقبول نہیں ہیں کہ اقتدار میں آ سکیں۔ اِسی طرح صومالیہ کے برعکس پاکستان کے ریاستی ادارے مضبوط ہیں۔ پاکستان کو صرف ریاستی ادارے چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان کا موجودہ نظام صرف وہاں کی اشرافیہ کے لیے ہے۔ سندھ اور پنجاب جاگیرداروں سے بھرے پڑے ہیں۔ ان وڈیروں نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ یہاں تک کہ عدالتی نظام بھی اپنا بنا رکھا ہے۔ موجودہ سسٹم ان جاگیرداروں کے حق میں ہے، میرے خیال میں پاکستان کے موجودہ نظام میں فی الحال نہ تو مزید خرابی اور نہ ہی بہتری آ سکتی ہے۔

ڈوئچے ویلے: مغربی دنیا کو پاکستان کی کیا ضرورت ہے؟

کرسٹیان واگنر: پاکستان انتہائی اہم ملک ہے۔ 180 ملین آبادی کے ساتھ یہ دنیا کے بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی آبادی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ نیٹو فورسز کی سپلائی کا سب سے اہم ترین روٹ پاکستان سے گزرتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ ان ہتھیاروں کا حفاظت میں رہنا امریکہ اور مغربی دنیا کے مفاد میں ہے۔

انٹرویو: ساندارا پیٹرز مان / ترجمہ: امتیاز احمد

ادارت: امجد علی

DW.COM