1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا، آرمی چیف

پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف کے مطابق اسلام آباد کے خلاف کسی بھی قسم کی سوچی سمجھی جارحیت یا کسی دفاعی غلطی کو نہ تو برداشت کیا جائے گا اور نہ ہی معاف، بلکہ ایسی کسی بھی صورت میں پاکستان کا جواب بہت بھرپور ہو گا۔

جنرل راحیل شریف نے آج جمعرات چھ اکتوبر کو رسالپور میں پاکستان ایئر فورس کے کیڈٹس کی ایک پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ باہمی عزت اور برابری کی بنیاد پر تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط کی پالیسی پرکاربند رہنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس پالیسی کے تحت پاکستان اندرونی اور بیرونی سطح پر کسی بھی خطرے سے بھرپور انداز میں نمٹنے کے لیے تیار ہے۔‘‘

بھارت  کا ذکر کرتے ہوئے راحیل شریف کا کہنا تھا، ’’بھارت لائن آف کنٹرول پر اور نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے حقائق کو مسخ کر کے بیان کر رہا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری سے توقع کرتے ہیں کہ وہ پاکستان جیسے ملک کے بارے میں، جس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل کردہ کامیابیاں بےمثال ہیں، بھارت کے جھوٹ پر مبنی بیانات کی مذمت کرے۔‘‘

پاکستانی آرمی چیف نے پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا، ’’پاکستان ہمسایہ ممالک سے دوستانہ روابط چاہتا ہے لیکن کوئی بھی یہ نہ سوچے کہ پاکستانی اپنے وطن کے دفاع کے لیے متحد نہیں ہوں گے۔ اگر پاکستان کے خلاف کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی بھی قسم کی کوئی جارحیت کی گئی یا اسلام آباد کے خلاف کوئی دفاعی غلطی کی گئی، تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘‘

اٹھارہ ستمبر کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے اُڑی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک فوجی اڈے پر حملے میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے سرحد پار کر کے آئے تھے لیکن پاکستان نے اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی۔ پھر اسی کشیدگی کے دوران بھارت نے پاکستان میں مبینہ ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کا دعویٰ کر دیا تھا۔ ان مبینہ حملوں کی بھی پاکستان نے تردید کی تھی۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ بھارتی دستوں نے دراصل کنٹرول لائن پر شدید فائرنگ کی تھی، جس میں دو پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد پاکستان نے بھی جوابی عسکری کارروئی کی تھی، جو مبینہ طور پر متعدد بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ بنی۔ خاص طور پر ان واقعات کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین کنٹرول لائن پر شدید تناؤ کے ساتھ ساتھ حکومتوں کے مابین لفظوں کی جنگ بھی جاری ہے۔

رسالپور میں آج اپنے خطاب میں جنرل راحیل شریف نے پاکستان کو لاحق داخلی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف ’ضرب عضب‘ نامی فوجی آپریشن میں ملکی فضائیہ نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے پاکستانی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کے خاتمے کا یہ عمل جاری ہے۔‘‘

DW.COM