1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان کرکٹ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے، بٹ

سڈنی سے لیڈز تک کا 15 سال کا سفر پاکستانی ٹیم کے لئے انتہائی صبر آزما اور تکلیف دہ تھا اور ہیڈنگلے ٹیسٹ کے فیصلہ کن روز بھی معمولی ہدف کے لئے پاکستانی کھلاڑیوں کو پلکوں سے نمک چننا پڑا۔

default

سلمان بٹ: پہلی کامیابی کے بعد زیادہ خود اعتمادی

کپتان سلمان بٹ نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلیا کے خلاف ڈیڑھ عشرے بعد کسی ٹیسٹ میچ میں ملنے والی اس فتح کو پاکستان کرکٹ کے لئے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔

سلمان بٹ نے کہا: ’’میری ٹیم کے کھلاڑیوں کی اوسط عمر 25 سال سے بھی کم تھی۔ مگر نئے کھلاڑیوں نے جس طرح دنیا کے بہترین باﺅلنگ اٹیک کے خلاف ’باﺅلر فرینڈلی کنڈیشنز‘ میں اپنا کھیل پیش کیا، اس کے بعد پاکستان کرکٹ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اب اسی combination کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

Shahid Afridi

پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ناکامی کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے دوبارہ ریٹائر ہوجانے والے شاہد آفریدی

پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کو بھی اس فتح کی ضرورت تھی۔ ’’جب ایسی فتوحات ملتی ہیں، تو ملک میں کرکٹ کا نیا شوق پروان چڑھتا ہے۔ نئے ہیروز ملتے ہیں۔ البتہ میری پاکستانی شائقین سے درخواست ہے کہ وہ اس ٹیم کی کسی میچ میں ناکام ہونے پر بھی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ نئے کھلاڑیوں سے مستقبل قریب میں کچھ غلطیاں ہو سکتی ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ ہم سب زیادہ سے زیادہ محنت کریں۔‘‘

سلمان بٹ نے اعتراف کیا کہ دوسری اننگز میں پاکستانی کھلاڑی نروس ہو گئے تھے اور اس کی وجہ گز شتہ 15برسوں میں پاکستانی ٹیم کی آسٹریلیا کے ہاتھوں مسلسل ناکامیاں تھیں۔

محمدیوسف اور یونس خان جیسے سینئر کھلاڑیوں کی واپسی کے سوال پر سلمان بٹ نے کہا کہ دونوں عظیم کھلاڑی ہیں اور ان کی ملک کے لئے بے پناہ خدمات ہیں مگراب تک ان کی واپسی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ’’جو ٹیم میرے پاس ہے، اس کے تمام کھلاڑی دو سو فیصد جان مار رہے ہیں۔ اگر وہ آسٹریلیا کے خلاف دباﺅ کے باوجود سرخرو ہوئے ہیں، تو اس بات پر ان کی پذیرائی ہونی چاہئے۔‘‘

Ricky Ponting Mannschaftskapitän Cricket Australien

رکی پونٹنگ کی کپتانی میں آسٹریلیا کی ٹیم پہلی مرتبہ پاکستان سے کوئی ٹیسٹ میچ ہاری

جمعرات سے میزبان ٹیم انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والی چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کپتان سلمان بٹ انگلینڈ کو پاکستان کے لئے آسٹریلیا سے زیادہ سخت حریف قرار دیتے ہیں۔سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ زیادہ متوازن ٹیم ہے۔ اس نے حال ہی میں بڑی ٹیموں کے خلاف کامیابیاں سمیٹی ہیں اور اسے ہوم گراﺅنڈ کا بھی فائدہ ہوگا ۔ ’’ہمیں یہ سمجتے ہوئے زیادہ محنت کرنا ہو گی۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’میں جیت کی کوئی پیشین گوئی نہیں کر رہا۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم اسی طرح متحد ہو کر اپنی صلاحیتوں کے مطابق کھیلی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم انگلینڈ کو بھی نہ ہرا سکیں۔‘‘

قیادت کے تجربے کے حوالے سے سلمان بٹ نے کہا کہ تمام کھلاڑی میچ میں جان مارتے ہوئے نظر آئے۔ ’’ہر ایک کا مقصد ٹیم کی جیت تھا، جو میرے لئے سب سے زیادہ خوشی کا پہلو ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی کپتانی ایک چیلنج ہے اور وقت ہی اس میں بھی سب کچھ سکھاتا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم اب رابن ہڈ کے شہر نوٹنگھم میں پڑاﺅ کر چکی ہے، جہاں ٹرینٹ برج پر جمعرات سے وہ پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی ٹیم کا مقابلہ کرے گی۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس