1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان کرکٹ میں بدعنوانی کی روک تھام کےلیے اقدامات

گزشتہ برس سامنے آنے والےاسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے کھیل سے بدعنوانی ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے، تواس کی کونسل کی رکنیت معطل کردی جائے گی۔

default

ایک برس گزرنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کا دعویٰ کہ اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت سےآئی سی سی کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا گیا ہے۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ میں اینٹی کرپشن کوڈ کا اطلاق کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے، جس کے تحت کھلاڑیوں کو بدعنوانی سے بچنے کے لیے لیکچرز سمیت ہر طرح کی آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ امپائرز اور آفیشلز کو بھی اس سلسلے میں ٹریننگ دی جا رہی ہے اورپی سی بی نے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کے دوران صورتحال پرکڑی نظر رکھنے کا بھی نظام وضع کیا ہے۔ چیف آپریٹنگ آفیسر کے بقول پی سی بی آئندہ سیزن سے پہلے آٹھ ریجنل اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی آفیسرز کا بھی تقرر کرے گا، جو بورڈ کے لیے آنکھ اورکان کا کام دیں گے۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کا کردارسامنےآنے کے بعد پاکستانی کرکٹرز اب پی سی بی کے منظور شدہ ایجنٹس کا ہی انتخاب کرنے کے پابند ہیں جبکہ کھلاڑیوں کے لیے اپنے مالی اثاثے ظاہر کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

Superteaser NO FLASH Pakistan Cricket Mohammad Asif

پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف

کرکٹرزکےکرپشن کیسزکی چھان بین کے لیے پی سی بی اینٹیگریٹی کمیٹی کا قیام پہلے ہی عمل میں آچکا ہے اور یہی کمیٹی لیگ اسپنر دانش کنیریا کے علاوہ کامران اکمل اور شعیب ملک کی بین الاقومی کرکٹ میں واپسی کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ پی سی بی نے پاکستانی ٹیم کےغیر ملکی دوروں میں بھی ضابطہ اخلاق کومزید سخت بناتے ہوئے کرکٹرز تک ان کے پرستاروں اور میڈیا کی رسائی کو نہ صرف محدود کر دیا ہے بلکہ کھلاڑیوں کے موبائل فون کے استعمال اور رات کوکرفیوٹائمنگز کی بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینجر اورسابق ٹیسٹ کرکٹر کرنل نوشاد علی کےمطابق اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سابق کپتان سلمان بٹ اوردو سرکردہ فاسٹ بولرز محمدعامر اورمحمد آصف کےزیرعتاب آنے سے بھی موجودہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کے رویوں میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ نوشاد علی کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو چوبیس گھنٹے قیدی کی طرح نہیں رکھا جا سکتا ہے، مگرانہیں بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ان کے لیے سب سے پہلے پاکستان اور کرکٹ ہونا چاہیں اوراس کے بعد دوسری چیزیں۔

پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلی مرتبہ 1994ء کے دورہ نیوزی لینڈ اور پھر اسی برس جنوبی افریقہ میں پاکستانی کھلاڑیوں کے بھاری رقومات کے عوض جان بوجھ کرمیچ ہارنے کے انکشافات ہوئے تھے۔ ابتدا میں اس معاملے سے چشم پوشی کی گئی تاہم عالمی کپ 1999ء کے بعد پانی سر سے اونچا ہونے پر قیوم کمیشن کی سفارشات کے تحت سابق کپتان سلیم ملک پرتاحیات پابندی لگا دی گئی اوروسیم اکرم اور مشتاق احمد سمیت کئی سرکردہ کھلاڑیوں پر بھاری جرمانےعائد کیے گئے۔

دوسری جانب حیران کن طورپرگز شتہ دوعشروں میں فکسنگ کی ایسی کئی وارداتوں میں ملکی کھلاڑیوں کا ہاتھ ہونے کے باوجودآج بھی پاکستان میں میچ فکسرز کے خلاف کوئی ایسا قانون نہیں ہے، جس کے تحت انہیں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑے۔ جب ڈوئچے ویلے نےکھیلوں کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے رکن سینٹر ہارون اختر خان سے پوچھا کہ اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہمیشہ گرجتی تو بہت رہی ہیں، مگرپارلیمنٹ میں میچ فکسنگ جیسے جرم کے خلاف آج تک قانون سازی کیوں نہیں ہو سکی، تو ان کا جواب تھا کہ پہلے یہ قانون بھارت میں بننا چاہیے، جہاں کے بک میکرز نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو اپنے چنگل میں پھنسایا ہوا ہے۔

ہارون اختر پاکستان میں میچ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ کو قرار دیتے ہیں کہ گز شتہ برس آسٹریلیا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ ہارنے کے ثبوت انہیں خود پی سی بی نے دکھائے تھے، مگر ملوث کھلاڑیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے انگلینڈ میں دوبارہ پاکستان کی بدنامی ہوئی۔

ہارون اختر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو میچ فکسنگ کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کے لیے یا تو نئے قوانین بنانا ہوں گے یا جوئے کے خلاف پہلے سے موجود قوانین کو مزید موثر بنانا ہوگا تاکہ ملک کو آئے روز کی شرمندگی اور لعنت سے بچایا جا سکے۔

میچ فکسنگ کے سدباب کے لیے اگر پاکستان میں اب بھی قانون نہ بن سکا، تو پھر لارڈز ٹیسٹ کا فکسنگ اسکینڈل جو کہ کبھی بھی پہلا نہیں تھا، آخری بھی ہرگز نہ بن سکے گا۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM