’پاکستان کرکٹ‘ فکسنگ، ڈوپنگ اوراستعفوں کے بھنور میں | کھیل | DW | 29.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’پاکستان کرکٹ‘ فکسنگ، ڈوپنگ اوراستعفوں کے بھنور میں

بغاوت، ڈوپنگ، فکسنگ یا استعفوں میں کچھ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کےلیے نیا نہیں۔ اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کی واپسی پر اٹھنے والے طوفان اور لیگ اسپنر یاسر شاہ کے ڈوپنگ مقدمے نے پی سی بی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

محمد حفیظ کے ساتھ مل کر علم بغاوت بلند کرنے والے کپتان اظہر علی نے جمعہ کو متنازع فاسٹ باؤلر محمد عامر کے ساتھ کھیلنے کی حامی بھر لی تھی لیکن پیر کو مبینہ طور پر خاندانی دباؤ پر پہلے قیادت سے دستکش ہوئے اور پھر چیئرمین پی سی بی کی دوسری مداخلت پر اپنا استعفی واپس لے لیا۔ ڈی ڈبلیو کو معلوم ہوا ہے کہ موجودہ ٹیم کے آٹھ کھلاڑی دو ہزار دس کے بدنام زمانہ نو بال اسکینڈل میں ملوث محمد عامر کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کے مخالف تھے لیکن کھلی مخالفت صرف محمد حفیظ اور ان کی ڈومیسٹک ٹیم سوئی ناردرن گیس میں کھیلنے والے اظہرعلی اور عمر اکمل نے کی۔ بعد ازاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سخت دباؤ اور اپنا کیریئر بچانے کے لیے ان تمام کھلاڑیوں نے پی سی بی کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا، جس کی رو سے وہ عامر کے علاوہ سلمان بٹ اور محمد آصف کی واپسی کی صورت میں ان کے ساتھ بھی کھیلنے کے پابند ہونگے۔

البتہ معلوم ہوا کہ کپتان اظہر علی بورڈ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے بعد اور زیادہ دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ پاکستانی کپتان کے قریبی ذرائع کے مطابق اظہرعلی کے والد اپنے بیٹے کے محمد عامر کے ساتھ کھیلنے اور ڈریسنگ روم شیر کرنے کے سخت مخالف ہیں۔ اظہر کو ضمیر کی خلش کے ساتھ خاندانی دباؤ کا بھی سامنا تھا۔ پیر کو ان کے مستعفی ہونے کی وجوہ جاننے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اعلی عہدیدار نے اظہرعلی کے والد کو قائل کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد اظہر نے اگلے ماہ دورہ نیوزی لینڈ میں ٹیم کی قیادت جاری رکھنے کی حامی بھرلی۔

دریں اثنا پی سی بی میں کرکٹرز کے عامرمخالف رویے کو پلیئر پاورکے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بورڈ کا خیال ہے کہ عامر ایک جرم کی دو سزائیں پہلے ہی بھگت چکے ہیں۔ برطانوی عدالت نے انہیں جیل بجھوایا اور آئی سی سی نے پانچ سال کھیلنے پر پابندی عائد کی۔ اس لیے اب عامر کو واپسی کا ایک موقع ضرور ملنا چاہیے۔

پاکستانی کرکٹ کے پنڈتوں اور پرستاروں کی اکثریت بھی محمد عامر کی ٹیم میں واپسی کی حمایت کر رہی ہے۔ سب سے مشہور پاکستانی کرکٹر اور سیاستدان عمران خان نے بھی فاسٹ باؤلر کی واپسی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ عامر کو اگلے برس نیوزی لینڈ کا ویزہ ملنے کا بھی قوی امکان ہے۔ پاکستان ٹیم کو سات جنوری کو محدود اوررز کی سیریز کھیلنے نیوزی لینڈ جانا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے محمد عامر کے نام کی کلیرنس دیتے ہوئے ان کے ویزے کے لیے اسلام آباد میں اپنے سفارت خانے کو خط لکھ دیا ہے۔ منگل کو لاہور ہائی کورٹ نے بھی عامر کی پاکستانی ٹیم میں شمولیت کے خلاف دائر ایک رٹ پٹیشن خارج کردی۔

دوسری طرف ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد لیگ اسپنر یاسر شاہ کی آئی سی سی کے ہاتھوں معطلّی نے بھی پی سی بی کے درد سر میں اضافہ کیا ہے۔ یاسر شاہ کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے اس سال سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر نے دبئی میں غلطی سے اپنی بیگم کی فشار خون کی دوا نگل لی تھی، جو ان کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کا باعث بنی۔ یاسر کے پاس اگلے چھ روز میں اپنے سیمپل بی ٹیسٹ کرانے کی گنجائش موجود ہے لیکن پی سی بی کے ڈاکٹرز اور وکلاء اس معاملے کا مخلتف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس جرم میں یاسر شاہ کو ایک سے چار سال تک پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو اپنے قدموں پر کھڑی پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے لیے بڑا دھچکا ہو گا۔