1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: ’کرپشن دہشت گردی سے چھوٹا جرم نہیں‘

پاکستان میں بد عنوانی کے خلاف جاری حالیہ مہم میں اہم سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران کی گرفتاریوں اور ان پر مقدمات کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مستقبل میں مزید اہم شخصیات کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

پاکستان میں ان دنوں احتساب کے قومی ادارے (نیب ) کے صوبائی دفاتر بھی فعال دکھائی دے رہے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف جاری اس مہم کو پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف مہم سے جوڑا جا رہا ہے۔ صوبہ سندھ میں اب تک حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں اور ان کے حمایت یافتہ سرکاری افسران سمیت پچاس سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم سابق صدر اور پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد حکام کی جانب سے ایسے دعوے کیے گئے تھے، جن کے مطابق ڈاکٹر عاصم کی مبینہ بد عنوانی کی رقم دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے بھی استعمال ہوئی۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما اس الزم کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

تاہم یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد سے ملک کے مختلف حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں اس سوال پر بحث مباحثے جاری ہیں کہ دہشت گردی یا بد عنوانی میں سے کون سا جرم زیادہ بڑا یا سنگین ہے؟

اس بارے میں پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمان کی مضبوطی اور شفافیت کے لئے کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور کرپشن کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گردی اور بدعنوانی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں اور پاکستان میں تو بدعنوانی نے ایک دائمی دہشت گردی کی شکل اختیار کر رکھی ہے کیونکہ کرپشن نے معاشرے میں جو ناانصافی جنم دی ہے اس نے دہشت گردی کو ایک نظریاتی اساس مہیا کی ہے، تو اس لئے اگر بدعنوانی دہشت گردی سے بڑا نہیں تو اس سے چھوٹا جرم بھی نہیں۔‘‘

انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے بدعنوانی کی وباء معاشرے کے ہر حصے میں پھیلی ہوئی ہے اور پاکستانی نظام انصاف سے لے کر ترقیاتی منصوبوں میں آپ کو کرپشن ہی کرپشن نظر آتی ہے۔

پاکستان میں بدعوانی کا رجحان نیا نہیں ہے۔ خود نیب کے حکام اور بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل متعدد مرتبہ پاکستان میں بدعنوانی کی نشاندہی کرتے آئے ہیں۔ نیب کے چیئرمین قمرالزمان چوہدری نے گزشتہ ہفتے لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب لوٹی گئی ملکی دولت میں سے دو سو چونسٹھ ارب روپے سے زائد کی رقم ریکور کر چکا ہے۔

نیب کے دعوے اپنی جگہ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ لوٹی گئی رقم کے مقابلے میں نیب کی ریکوری اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ان ماہرین کے مطابق بدعنوانی معاشرتی ناہمواری کو جنم دیتی ہے جو بلاآخر دہشت گردی سمیت متعدد جرائم کا سبب بنتی ہے۔

پاکستان میں اپنی صحافی برادری کےاحتساب پر مبنی حالات حاضرہ کے پروگرام "اپنا گریبان" سے شہرت پانے والے صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ بلاشبہ پاکستان میں کرپشن اور دہشت گردی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں لیکن بدعنوانی کو دہشت گردی سے بڑاجرم نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’وہ کہتے ہیں نا کہ جان ہے تو جہان ہے۔ انسانی زندگی سب سے مقدم ہے اور جو کچھ بھی ہے وہ اس کے بعد ہی ہے، یہ بات درست ہے کہ دہشت گردی اور بدعنوانی ایک دوسرے کو فروغ دیتے ہیں لیکن پھر یہی کہوں گا کہ انسانی جان لینے سے بڑا جرم کوئی نہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی پر قابو پا کر دہشت گردی میں کمی کی جاسکتی ہے لیکن اگر بدعنوانی کو مکمل ختم کر دیا جائے تو بھی پاکستانی معاشرے کے تناظر میں اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ دہشت گردی بھی ختم ہو جائے گی۔