1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کا یوم آزادی، فاٹا میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت

ملک بھر کی طرح دارالحکومت اسلام آباد میں بھی 63 واں یوم آزادی روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پرچم کشائی کی الگ الگ تقاریب میں شرکت کی۔

default

پاکستان میں یوم آزادی کا ایک منظر

ایوان صدر میں تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے ملک کے قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے کا اعلان کیا۔ صدر نے کہا کہ جمہوریت ہی ملک کا مستقبل ہے اور اسے پروان چڑھانا ہر پاکستانی پر فرض ہے: ’’فاٹا میں سو سال پرانا قانون چلا آ رہا ہے میں آج آپ کی جمہوری حکومت کی طرف سے محترمہ شہید اور عوام کے وعدے کے مطابق یہ اعلان کرتا ہوں کہ آج سے فاٹا میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہو گی۔‘‘

خیال رہے کہ شورش زدہ قبائلی علاقوں میں آج سے پہلے تک سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں تھی تاہم موجودہ حکومت کی قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے متعلق کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ علاقے کی ترقی اور شدت پسندی کی حوصلہ شکنی کےلئے سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کی جانی چاہئے۔

Pakistan Asif Ali Zardari

پاکستنای صدر آصف زرداری نے قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے

ادھر تجزیہ نگار پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کی موجودہ صورتحال میں حکومت کے لئے اصل امتحان سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے اعلان کو عملی جامہ پہنانا ہے:

’’سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے کا انحصار اس بات پر ہے کہ فاٹا پاکستان میں شامل ہوتا ہے یا نہیں اور وہاں پر حکومتی رٹ قائم ہوتی ہے یا نہیں۔ اس وقت کم از کم پاکستانی حکومت کی رٹ ان علاقوں میں نہیں ہے اور اس اقدام سے پہلے وہاں پر حکومتی رٹ قائم کرنا بہت ضروری ہے ۔‘‘

دریں اثناء یوم آزادی ہی کے موقع پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی کمیٹی برائے بلوچستان کی رپورٹ کی بھی منظوری دے دی ہے ۔ اس رپورٹ کے مندرجات کو منظر عام پر نہیں لایا گیا البتہ پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں صوبے کو مزید مالی اور انتظامی اختیارات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ : شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر