1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کا یوم آزادی، جشن کا جذبہ سیلاب کی نذر

پاکستانی عوام آج 64واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ جشنِ آزادی کا جذبہ ملک میں آنے والے تاریخ کے بدترین سیلاب کے باعث ماند پڑ گیا ہے۔

default

حکومت نے بھی پرچم کشائی کے علاوہ تمام تقریبات منسوخ کر دی ہیں۔ ہفتہ کو پاکستان کے قیام کے 63 برس پورے ہو رہے ہیں۔ 1947ء میں برصغیر میں برطانوی راج کے خاتمے اور تقسیم ہند سے پاکستان وجود میں آیا تھا۔ ہر سال آج کے دِن وہاں سرکاری اور نجی سطح پر متعدد تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اخبارات و جرائد خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح اور تحریک آزادی کے لئے جانے جانے والے دیگر رہنماؤں کے مزاروں پر پھول چڑھائے جاتے ہیں۔

تاہم اسلام آباد حکام کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ ملک کے یوم آزدی کے موقع پر پرچم کشائی کے علاوہ کسی طرح کی سرکاری تقریبات کا انعقاد نہیں کیا جائے گا، جس کا مقصد تقریباﹰ ڈیڑھ کروڑ سیلاب زدگان سے یکجہتی کا اظہار ہے۔

Überschwemmung in Pakistan

خیبر پختونخوا صوبے کے ایک شہر میں سیلابی پانی

پاکستان کے صدر آصف زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور عسکری قیادت نے معمول کی تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے خبررساں ادارے AFP کو بتایا، ’صدر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایوانِ صدر میں کسی جشن کا اہتمام نہیں کریں گے۔‘فرحت اللہ بابر نے کہا کہ صدر یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں عوام پر ’باہر نکلنے اور مصیبت میں گھرے اپنے ہم وطنوں کی مدد‘ کرنے کے لئے زور دیں گے۔ ایک حکومتی ترجمان نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے جشن آزادی کی تقریبات منسوخ کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف پرچم کشائی کی تقریب ہی منعقد کی جائے گی۔

پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی کہا ہے کہ فوج کی جانب سے 14 اگست کے ساتھ چھ ستمبر کو ملک کے یوم دفاع کے موقع پر بھی کسی طرح کی تقریبات کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تقریبات پر اٹھنے والے اخراجات کی رقوم امدادی کاموں میں استعمال کی جائیں گی۔

اس برس کا یوم آزادی بھیگا ہوا ہے۔ پاکستان میں کل اتوار سے مزید بارشوں کی پشین گوئی کی جا چکی ہے۔ ابھی سیلاب کا تیسرا ریلا دریاؤں سے گزرنا باقی ہے۔ سارے ملک میں بنیادی انتظامی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ خیبر پختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان اور سندھ میں بے گر اور پریشان حال یوم آزادی کے موقع پرحکومت کی خصوصی توجہ کے منتظر ہیں۔ اس یوم آزادی کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے پاکستان میں ہوں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس