1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان کا مقابلہ اب بھارت سے

آئی سی سی چیمپئنز لیگ کے دوسرے سیمی فائنل میں بھارت نے بنگلہ دیش کو نو وکٹوں سے مات دے کر فائنل تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اب بھارت کی ٹیم فائنل میچ میں پاکستان کے مد مقابل آئے گی۔

جمعرات کے دن ایجبسٹن میں کھیلے گئے دوسرے سیمی فائنل میں بھارتی کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو تمام شعبہ جات میں مات دے دی۔ بنگلہ دیش نے پہلے کھیلتے ہوئے 264 رنز بنائے لیکن بھارتی بلے بازوں نے اکتالیسویں اوور میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر ہی 265 رنز بنا کر فائنل میں اپنی جگہ پکی بنا لی۔

سرفراز کی انگلش کا مذاق کیوں اڑایا؟ بھارتی سوشل میڈیا صارفین

پاکستان چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ گیا

بھارت تو پہنچ گیا، پاکستان کا کیا ہو گا؟

بھارت کی طرف سے روہت شرما نے 123 جبکہ کپتان ویراٹ کوہلی نے 96 رنز کی شاندار ناقابل شکست اننگز کھیلیں۔ بہترین بلے بازی پر شرما کو میچ کو بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ قبل ازیں بنگلہ دیشی ٹیم  نے جب اپنی اننگز شروع کی تھی تو معلوم ہوتا تھا کہ وہ تین سو رنز سے زائد اسکور کرنے میں کامیاب ہو جائے گی تاہم بھارت کی عمدہ بولنگ کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔

گیارہ روز قبل اسی گراؤنڈ پر گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو 124 رنز سے ہرایا تھا۔ تاہم پاکستانی ٹیم نے اچھا کم بیک کرتے ہوئے گروپ اسٹیج میں اپنے باقی دونوں میچ جیت کر نہ صرف سیمی فائنل میں جگہ بنائی بلکہ ’فیورٹُ‘ اور میزبان ٹیم انگلینڈ کو شکست دے دی۔ کرکٹ ناقدین کے بقول پاکستان اور بھارت کے مابین اس فائنل میچ میں اگرچہ بھارت فیورٹ ہے لیکن پاکستانی بولنگ اٹیک ایسا ہے کہ وہ بھارتی بلے بازوں کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

دوسری مرتبہ ہو رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں کسی آئی سی سی ٹورنامنٹ کے فائنل میں مدمقابل ہوں گی۔ اس سے قبل سن دو ہزار سات میں ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں دونوں روایتی حریف میدان میں اترے تھے۔ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں کھیلے گئے اس میچ میں ایک سنسی خیز مقابلے کے بعد بھارت نے کامیابی حاصل کر لی تھی۔

پاکستانی کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ فائنل میچ میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے ہر کھلاڑی تیار ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انجری کے باعث سیمی فائنل میں شرکت نہ کر سکنے والے محمد عامر فٹ ہو جائیں گے، جس کے باعث پاکستانی بولنگ اٹیک کو ایک نئی توانائی ملے گی۔

DW.COM