1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان کا مستقبل تعلیم میں ہے، ورلڈ سکیورٹی نیٹ ورک فاؤنڈیشن

ورلڈ سکیورٹی نیٹ ورک فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر ہوبیرٹس ہوفمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف تعلیم میں ہے۔ یہ ادارہ پناہ گزینوں کے لیے قائم کیمپوں میں رہائش پذیر بچوں کے لیے اسکالرشپس دیتا ہے۔

default

ورلڈ سکیورٹی نیٹ ورک فاؤنڈیشن (ڈبلیو ایس این) کے اعلامیے کے مطابق اس کے سربراہ ڈاکٹر ہوفمان نے کہا ہے کہ تعلیم کے ذریعے قبائلی علاقوں می لڑکوں اور لڑکیوں کو ان کے عظیم ملک (پاکستان) کے بارے میں آگاہ کیا جا سکتا ہے اور ان کی سوچ کو نکھارا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ہوفمان نے اس بات کو بدقسمتی قرار دیا ہے کہ نوّے فیصد امریکی امداد ہتھیاروں کی مَد میں چلی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے ڈبلیو ایس این اپنے پروگرام کو توسیع دینا چاہتی ہے اور اس کے لیے مزید اسپانسر ڈھونڈ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے اسپانسر کی تلاش بالخصوص خلیجی ممالک میں جاری ہے، جنہوں نے ابھی تک پاکستان کی خوشحالی کے لیے ضروری ملازمتوں اور تعلیمی مواقع کے لیے مدد فراہم نہیں کی۔

خیال رہے کہ ورلڈ سکیورٹی نیٹ ورک فاؤنڈیشن گزشتہ دو برس سے ایک سو فاٹا اسکالرشپس کا پروگرام چلا رہا ہے۔ اس فلاحی کام کے لیے بنیادی طور پر اسے جرمن دفتر خارجہ کی مدد حاصل ہے۔

ہوفمان کہتے ہیں کہ فاٹا (پاکستان کے قبائلی علاقے) کے بچوں کی تعلیم کے لیے یہ بہت زبردست منصوبہ ہے، جو 2008ء میں لندن اور برلن میں ہونے والی ورکشاپوں کے نتیجے میں ترتیب دیا گیا۔

پاکستان کا قبائلی علاقہ افغانستان کی سرحد سے ملحقہ ہے، جہاں پینتیس لاکھ افراد آباد ہیں۔ ڈبلیو ایس این کے مطابق اس علاقے کی آبادی تین اسٹریٹیجک اہداف کے لیے بہت اہم ہے، جن میں ہوم لینڈ سکیورٹی، پاکستان کا استحکام اور افغانستان کا استحکام شامل ہیں۔

ڈبلیو ایس این کے مطابق مستحکم پاکستان کے لیے تعلم بہت اہم ہے اور یہ کام وہاں قائم دس ہزار مدرسوں پر نہیں چھوڑ دیا جانا چاہیے۔

رپورٹ: ندیم گل

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس