1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کا فلڈ وارننگ سسٹم:گرماگرم بحث

پاکستان میں ایک طرف گزشتہ قریب ایک صدی کے بدترین سیلاب سے نمٹنے اور بین الاقوامی امداد کے حصول کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب اس تباہی سے بچنے کے لئے وارننگ سسٹم کی عدم موجودگی پر گرما گرم بحث بھی جاری ہے۔

default

محکمہء موسمیات کے حکام کے مطابق ان کے پاس موسمیاتی پیشین گوئیا‌ں کرنے اور دریائی سیلابوں سے قبل از وقت خبردار کرنے کا نظام تو موجود ہے۔ تاہم ان حکام کے مطابق انہیں مقامی سطح پر نہروں اور ندی نالوں میں آنے والے تیز رفتار سیلابوں کی قبل از وقت اطلاع دے سکنے کا نظام انتہائی محدود پیمانے پر میسر ہے۔

پاکستانی محکمہء موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل قمرالزمان چوہدری کے مطابق مقامی سطح پر سیلاب کی آمد کی قبل از وقت اطلاع دینے کا نظام حکومت جاپان کی معاونت سے پورے پاکستان میں صرف راولپنڈی میں نالہ لئی کے مقام پر نصب کیا گیا ہے، جو بقول ان کے بہت اچھی طرح کام کر رہا ہے۔

قمرالزمان چوہدری نے کہا: ’’'ملک کے اور بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں تیز رفتار سیلاب آتے ہیں۔ ان علاقوں میں مردان، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، سوات، چترال اور بلوچستان کے کئی علاقے شامل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ راولپنڈی میں نصب کیا گیا نظام ان علاقوں تک بھی پہنچایا جائے۔‘‘

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

پاکستان کا بجٹ بنانے والوں کی ترجیح ایسے امور نہیں رہے، جو کسی قدرتی آفت سے نمٹنے کی پیشگی اطلاع کے نظام سے متعلق ہوں

دوسری جانب تجزیہ نگار مقامی سطح پر سیلاب سے خبردار کرنے کے نظام کی عدم تنصیب کو حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق پاکستان کا بجٹ بنانے والوں کی ترجیح کبھی بھی ایسے امور نہیں رہے، جو کسی قدرتی آفت سے نمٹنے کی پیشگی اطلاع کے نظام سے متعلق ہوں۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا: ’’ایک مہینے میں وزیراعظم کے بیرونی دوروں پر دس کروڑ روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ لیکن قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے قائم کردہ قومی ادارے NDMA کا سالانہ بجٹ بھی صرف دس کروڑ روپے ہے۔ اگر اس کا موازنہ ایوان صدر کے اخراجات سے کیا جائے تو NDMA کو روزانہ تین لاکھ روپے ملتے ہیں جبکہ ایوان صدر پر یومیہ10 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔‘‘

ایک اور تجزیہ نگار کامران شفیع سیلاب سے نمٹنے کے لئے وفاقی اور صوبائی محکموں کے درمیان رابطوں کے فقدان کو بھی معاملات کی خرابی کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس