1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کا سیلاب: مزید بارشیں، نئے سیلاب کا خطرہ

پاکستان میں رواں سال موسم برسات کے دوران شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب نے بنیادی ڈھانچے کو شکست و ریخت سے دوچار کردیا ہے۔ مزید بارشوں سے اگلے دنوں ایک اور سیلابی ریلے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

default

سیلابی پانی دریا کے پل کو چھوتا ہوا

پاکستان میں سیلاب کی مجموعی صورت حال تشویشناک ہو چکی ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ متاثرین کی تعداد اب پندرہ ملین سے بھی بڑھ چکی ہے۔ دوسری طرف صوبہ سندھ سمیت بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے لیہہ میں شدید بارش کا پانی ابھی دریائے جہلم میں پہنچنا باقی ہے۔ بھارت کی جانب سے ابھی تک دریائے راوی اور دریائے ستلج میں فالتو سیلابی پانی نہییں چھوڑا گیا ، وگرنہ یہ موجودہ صورت حال کو مزید خراب کر سکتی تھی۔ تمام پاکستان سیلاب کی موجودہ صورتحال کے باعث ریڈ الرٹ دکھائی دیتا ہے۔

Pakistan Überschwemmung Flut

متاثرین پانی سے گزرتے ہوئے

سیلابی پانی بظاہر سکھر سے آگے بڑھ چکا ہے لیکن ابھی بھی دریائے سندھ میں سیلابی پانی سکھر کے مقام سے گزر کر آگے بڑھ رہا ہے اور دریا انتہائی اونچے درجے کے سیلاب میں ہے۔ دریائے چناب اور جہلم کا وہ سیلابی ریلہ جو ابھی پنجاب میں ہے وہ بھی اگلے دو چار دنوں میں دریائے سندھ میں شامل ہو کر جب آگے بڑھے گا تو ایک اور سیلابی ریلے پیدا ہو جائے گا۔

اس دوران جنوبی پنجاب کے وہ شہر جو دریائے سندھ کے کنارے پر تھے ان میں خاص طور پر بند ٹوٹنے کے بعد شدید تباہی دیکھی گئی ہے۔ صوبہ سندھ میں سے گزرتے ہوئے سیلابی ریلے نے کئی مقامات پر باندھے گئے حفاظتی پشتوں اور بندوں کو آزمائش میں ڈال رکھا ہے۔ پانی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے مقام پر دریائے سندھ کا پاٹ بہت چوڑا ہو جاتا ہے اور اس دریائی گزرگاہ میں ہزاروں افراد مقیم ہیں۔

پنجاب میں ابھی بھی کئی مقامات پر دریا اونچے سیلاب میں ہیں اور پانی کی سطح بلند ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی وجہ شمالی علاقوں میں تازہ بارشیں ہیں۔ جھنگ میں تریموں ہیڈورکس پر چناب دریا کی سطح ایک بار پھر بلند ہونے لگی ہے۔ اسی طرح ہیڈ مرالہ اور خانکی پر بھی دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ایک بڑا پانی کا ریلہ ہیڈ خانکی سے اتوار کو گزرے گا اور قریبی علاقوں میں مزید پانی پھیلنے کا امکان ہے۔ کوٹ ادو شہر بھی سیلاب سے سخت متاثر ہے اور وہاں کے لئے حکومتی اور سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے خصوصی امداد کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔ سرائیکی زبان کے مشہور شاعر خواجہ غلام فرید کا شہر کوٹ مٹھن شریف سیلابی پانی سے بھرا ہوا ہے۔ جنوبی پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے پاور پلانٹس کی بندش سے سارے ملک میں بجلی کی کمی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

Dossierbild 1 Pakistan Flut

جنوبی پنجاب کے شہر تونسہ میں سیلابی پانی

پنجاب اور سندھ صوبوں کے سرحدی مقام پر واقع شہر کشمور کے ارد گرد بھی سندھ دریا کا سیلابی پانی پھیل چکا ہے۔ کشمور کے قریب ایک حفاظتی بند میں شگاف کے بعد کی صورت حال خاصی پریشان کن بتائی جا رہی ہے۔ شگاف کو بند کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ فوج اور نیوی کے دستے بھی چوکس کر دئے گئے ہیں۔ گھوٹکی اور شکارپور کے قریبی کچے کے علاقے میں سیلابی پانی میں اب بھی ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو نکالنے کا عمل جاری ہے۔ جو متاثرین منتقل کئے گئے ہیں ان کے لئے گھوٹکی کے قادر پور بند پر کھانے پینے کا عارضی بندوبست کیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ میں متاثرین کی منتقلی کے لئے پاکستان کی فضائیہ کی جانب سے خصوصی آپریشن شروع کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب یہ تمام امدادی کوششیں کم دکھائی دے رہی ہیں۔ متاثرین سیلاب شاکی ہیں کہ ان کو پرسہ دینے والا خدا کی ذات کے سوا کوئی نہیں رہا۔ بھوک اور بیماری متاثرہ خاندانوں کے تعاقب میں ہیں۔ اس ہنگامی صورت حال کے باوجود پاکستان کے سیاستدان متحد اور اتفاق سے دور ہیں۔ وزیر اعظم گیلانی نے سیاسی حلقوں سے کہا ہے کہ وہ سیلاب کی مجموعی صورت حال پر سیاست بازی کرنے کو چھوڑ کر خدمتی امور سرانجام دیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس