1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کا سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہوا

پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی بد عنوانی کے الزامات پر گرفتاریوں اور مقدمات قائم کیے جانے کے بعد ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں یکدم اضافہ ہو گیا ہے۔

منگل یکم ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کی مبینہ بد عنوانی کے آٹھ مقدمات میں سات روز کے لیےحفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنھیں کراچی میں ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ حکومت سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے اور اُنھیں ایسے مقدمات میں بطور ملزم پیش کیا جارہا ہے جس میں اُن کا نام تک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، اسی لیے عدالت میں پیش ہوئے اور آئندہ بھی عدالتوں میں پیش ہوتے رہیں گے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انہیں آج عدالت میں پیشی کے دوران پتہ چلا ہے کہ ان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں وہ ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دائر کریں گے۔

ملک کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے ایک روز قبل حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے خلاف سخت بیان سے متعلق سوال کے جواب میں گیلانی نے کہا کہ سابق صدر نے مفاہمتی پالیسی سے دلبرداشتہ ہو کر یہ بیان دیا تھا۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا، ’’پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان لندن میں طے پانے والے میثاق جمہوریت پر میں نے بطور وزیر اعظم عمل درآمد کروایا اور اب یہ موجودہ حکومت پر ہے کہ وہ اب اس معاملے میں کیا کرتی ہے۔‘‘

خیال رہے کہ کراچی آپریشن کے دوران مبینہ کرپشن کے الزامات پر پیپلز پارٹی کے متعدد رہنما روپوش یا بیرون ملک چلے گئے جبکہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بہت سے بیوروکریٹس بھی زیر عتاب ہیں۔ اسی دوران سابق صدر آصف زرداری کے دست راست سمجھے جانے والے سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے علاوہ سابق صدر کی پولیٹیکل سیکرٹری رخسانہ بنگش کے بیٹے کو بد عنوانی کے الزامات میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق ڈاکٹر عاصم کی طرف سے مبینہ کرپشن کے ذریعے اکھٹی کی گئی رقم کا ایک حصہ دہشتگردی کی کاروائیوں میں بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

اسی کا جواب دیتے ہوئے یو سف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت پر ہر قسم کا الزام لگایا جا سکتا ہے لیکن یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شدت پسندوں کی مالی معاونت کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کی قیادت اور پارٹی کارکن خود شدت پسندی کا شکار ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور ان کے حلاف کرپشن کے مقدمات پر پیر 31 اگست کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نوازحکومت طالبان کو بچانے کے لیے قوم کو تقسیم کر رہی ہے۔

نوازحکومت طالبان کو بچانے کے لیے قوم کو تقسیم کر رہی ہے، آصف زرداری

نوازحکومت طالبان کو بچانے کے لیے قوم کو تقسیم کر رہی ہے، آصف زرداری

دوسری جانب حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے اندراج میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے گزشتہ شام صحافیوں س بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنا رہی۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے خدشات دور کیے جائیں گے۔ پرویز رشید کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری سے متعلق وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن کی طرح بدعنوانی کے خلاف ’آپریشن‘ بھی سیاسی حکومت کے ہاتھ میں نہیں۔ سیاسی تجزیہ کار مبشر زیدی کا کہنا ہے، ’’ایسے اشارے مل رہے ہیں جن کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بد عنوانی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں بھی بالواسطہ فوج کا ہاتھ ہے اور انہوں نے وفاقی حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ کرپٹ عناصر کے خلاف اپنے تحقیقاتی اداروں کے ذریعے تفتیش کرے۔‘‘ مبشر زیدی کے مطابق آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید علی شاہ نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں وہ معلوم کریں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رنجیت سنگھ کا دور نہیں کہ پہلے گرفتار کرو اور پھر گنتی کرو۔