1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کا ریاستی تشخص کمزور ہو چکا ہے: چدمبرم

امریکی اندرونی سلامتی کے وزیر کے دورے کے موقع پر بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ریاستی تشخص کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ دونوں وزیروں کی ملاقات میں مستقبل میں مزید تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔

default

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے پیچیدہ اور گمبھیر داخلی معاملات پر مختلف حوالوں سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستانی حکومت کی پریشانیاں دوچند ہو چکی ہیں۔ عوام دہشت گردوں کی آئے روز کی کارروائیوں سے خوف وہراس میں مبتلا ہیں۔ مجموعی طور پر زندگی پریشان ہے۔

Pakistan Koranschule in Lahore Schüler

ایک پاکستانی مدرسہ

بھارت کی جانب سے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پروان چڑھتے بے شمار دہشت پسندانہ گروپ غالباً حکومتی پالیسی کا ایک پہلو ہو سکتے ہیں اور ان کی افزائش کے عمل کے بعد اب ان کے درمیان مسلسل روابط اور ہم آہنگی نے انہیں پاکستان کی موجودہ حکومتی پالیسی کے تناظر میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے اور اسی باعث وہ حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

امریکہ کی اندرونی سلامتی کی وزیر جینٹ ناپولیتانو کے چار روزہ بھارتی دورے کے موقع پر بھارت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ امریکہ اور بھارت انسداد دہشت گردی کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

Proteste nach Luftangriff auf Koranschule in Pakistan

جماعت اسلامی کی امریکہ مخالف ریلی

بھارتی وزیر داخلہ چدمبرم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی دہشت گردی کا مرکز پاکستان میں تھا۔ امکاناً ان کا اشارہ اسامہ بن لادن کی طرف تھا۔ ان کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے بڑے بنیادی ڈھانچے کی حیثیت سرکاری پالیسی کی سی دکھائی دیتی ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اس وقت پاکستان کے طول و عرض میں کئی دہشت پسندانہ گروپ فعال ہیں اور یہ ملک ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ اسی وجہ سے نہ صرف سارے معاشرے کا جھکاؤ انتہا پسندی کی جانب دکھائی دے رہا ہے بلکہ اقتصادی بدحالی بھی نمودار ہو چکی ہے۔

چدمبرم کے مطابق انتہا پسندی کے فروغ اور دہشت پسندانہ کارروائیوں کی وجہ سے اب پاکستان کا ریاستی تشخص انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔

داخلی سلامتی کی امریکی وزیر جینٹ ناپولیتانو اور بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اپنی ملاقات کے دوران سلامتی کے مختلف پہلوؤں میں مزید تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ دونوں ملک کل چھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ خفیہ معلومات کا مکمل تبادلہ جاری رکھیں گے۔ ملاقات کے بعد امریکی وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ اگلے ایک سال کے دوران امریکہ اور بھارت اپنی اسٹریٹیجیک پارٹنر شپ کو مزید مضبوط کریں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس