1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان کا بحران وہاں کا اندرونی معاملہ ہے، امریکہ

امریکہ نے پاکستان کے سیاسی بحران کو وہاں کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ واشنگٹن، اسلام آباد کے ساتھ طویل المدتی شراکت پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

default

پاکستان کی سابق حکومتی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے حکومت چھوڑنے کے اعلان کے بعد واشنگٹن کی اس اہم اتحادی حکومت کی بقاء خطرے میں پڑ چکی ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے اوپر عدم اعتماد کی کسی ممکنہ تحریک کا راستہ روکنے کے لئے سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کردیے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم کو ایوان صدر اور حکمران پیپلز پارٹی کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اثر نہیں پڑےگا۔ ان کے بقول پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت موجود ہے اور موجودہ مسئلہ کُلی طور پر ایک داخلی معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ میں اس وقت یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ کیا موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے اُن کی توجہ بقیہ کاموں سے ہٹ جائے گی یا نہیں؟‘‘

Pakistan Parlament Ministerpräsident Yusuf Raza Gilani

اگر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو اسے 341 ارکان کے ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے 172 ارکان کی ضرورت ہو گی جبکہ اس وقت اس کے اتحادیوں کی تعداد 160 بنتی ہے

واضح رہے کہ 2010ء کی افغان جنگ کے جائزہ رپورٹ میں اب تک کی پیشرفت کو حساس قرار دیتے ہوئے اس میں کامیابی کے لئے پاکستان کے تعاون کو کلیدی اہمیت کا حامل ٹہرایا گیا تھا۔

فلپ کراولی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن حکومت اسلام آباد کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ’’ ہماری توجہ پاکستان کے ساتھ طویل مدتی اسٹریٹیجک شراکت کے قیام پر ہے، وہاں کی حکومت موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوششوں میں مصروف ہے اور دنیا بھر میں اتحادی حکومتیں اس قسم کے مسائل سے ایسے ہی نمٹتی ہیں۔‘‘

پیر کو مسلم لیگ ن اور ق کی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جمہوریت کی بقاء کی امید ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی حکومت کو سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ معیشت اور سلامتی کو لاحق سنگین خطرات کا بھی سامنا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس