1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان ڈونرز کانفرنس: پانچ ارب ڈالرسے زائد کی امداد

جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں منعقدہ ایک روزہ بین الاقوامی ڈونر کانفرنس میں پاکستان کو غربت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

default

پاکستانی صدر اور وزیر خارجہ ڈونرز کانفرنس میں جاپانی وزیر اعظم کے ہمراہ

ٹوکیو منعقدہ کانفرنس میں شریک پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اُنہوں نے مشکل حالات میں پاکستان کی قیادت کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے اور اپنی کوششوں کے سلسلے میں پوری دُنیا سے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔ زرداری نے کہا کہ پاکستان کی ناکامی پوری دُنیا کی ناکامی ہو گی۔

’’ مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی اور باقی دُنیا کی مدد سے پاکستان اِس چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔ ہم وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں، جس سے دُنیا کو اِس بڑے خطرے سے نجات دلائی جا سکے۔‘‘

Geberkonferenz für Pakistan in Tokio

پاکستانی وزیر خارجہ اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کے دوران

پاکستانی صدر کے خطاب پر رد عمل توقع سے کہیں زیادہ رہا اور اِس بحران زَدہ ملک کے لئے اگلے دو برسوں کے دوران پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد کا اعلان کیا گیا۔ کیا یہ امداد مطلوبہ نتائج سامنے لا سکے گی، اِس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئےجرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے جنوبی ایشیا انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر وولف گانگ پے ٹر سِنگل کہتے ہیں: ’’یہ بات اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کہ محض زیادہ رقم دے کر اِس ملک کو مستحکم کیا جا سکےاور اُسے ایسی سیاسی پالیسیاں اختیار کرنے پر مائل کیا جا سکے جو یہ ملک شاید اختیار کرنا چاہتا بھی نہ ہو۔ پاکستان اور خاص طور پر پاکستانی فوج خود کو روایتی طور پر بھارت کے ساتھ تنازعے کا فریق سمجھتی ہے جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان بھارت کی جانب نرم طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے زیادہ توجہ افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر دے۔ یہ بات فوج کے کچھ حصوں اور انتہا پسند اسلامی قوتوں کے لئے ناقابلِ قبول ہے۔‘‘

Geberkonferenz für Pakistan in Tokio

ڈونرز کانفرنس میں پاکستانی صدر خطاب کے دوران

پاکستان کے لئے امداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ممتاز تجزیہ نگار حسن عسکری رضوی کہتے ہیں: ’’میرے خیال میں مغربی دُنیا کچھ مہینوں تک دیکھے گی کہ چیزیں کس رُخ میں جاتی ہیں۔ اگر حالات بے یقینی کی طرف بڑھتے گئے اور عسکریت پسندی جاری رہی تو ظاہر ہے، مغربی ملکوں کی تشویش میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ وہ یہ ساری امداد یک بارگی نہیں بلکہ مختلف مرحلوں میں دیں گے۔ حالات کو قابو سے باہر ہوتا دیکھ کر وہ مزید امداد کی فراہمی سے انکار بھی کر سکتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ امریکہ کے مشہور ادارے ایشیا سوسائٹی نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستان کو آئندہ پانچ برسوں کے دوران پچاس ارب ڈالر تک کی ضرورت ہے۔ ایسے میں پانچ ارب ڈالر کی امداد زیادہ نہیں لگتی تاہم پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے اِتنی امداد کا اعلان حد سے زیادہ اطمینان بخش ہے۔

جائزہ : امجد علی

ادارت : مقبول ملک

DW.COM