1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: ڈاکٹر اور کلینکس نومولود بچوں کی چوری میں شریک

پولیس کی طویل تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ ہسپتالوں سے چوری ہو جانے والے نوزائیدہ بچوں کو بے اولاد جوڑوں کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا ہے اور اس کاروبار میں ڈاکڑوں اور نرسوں کے ساتھ ساتھ کئی کلینکس بھی شامل ہیں۔

نصرت اورکزئی کو جب پتا چلا کہ اس کے ہاں لڑکے کی پیدائش ہوئی ہے تو اس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔ تیس سالہ نصرت کا خیال تھا کہ ان کی فیملی مکمل ہو گئی ہے۔ یہ ان کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش تھی۔ نصرت کی دو بیٹیاں بھی ہیں لیکن ان کی یہ خوشیاں مختصر ثابت ہوئیں۔

افغان سرحد کے قریب رہائش پذیر نصرت کے نومولود بیٹے کو یرقان ہوا تو اسے پشاور کے ایک ہسپتال میں لایا گیا۔ اس دوران نصرت گھر پر ہی رہیں کیوں کہ بچے کی پیدائش کے بعد ان کی صحت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ بچے کو ہسپتال لانے کے صرف چند ہی گھنٹوں بعد ہی بچے کو ہسپتال سے چوری کر لیا گیا، اس سے پہلے کہ علاج شروع ہوتا، تین دن کا بچہ ہی غائب ہو چکا تھا۔

نصرت آج بھی اپنے بیٹے کی تلاش میں ہیں اور اس کی یاد آتے ہی غم سے ان کے آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’اگر وہ وفات پاتا تو ہم نے اسے دفن کیا ہوتا۔ میں اس کی قبر پر جاتی اور آنسو بہا کر اپنا غم ہلکا کر لیتی لیکن اب ۔۔۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ نصرت اپنا فقرہ مکمل کرے، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے ہیں۔ آنسو پونچھتے ہوئے، ’’ گزشتہ ڈیڑھ برس سے کوئی ایک ایسا لمحہ نہیں گزرا، جب میں نے اسے یاد نہ کیا ہو۔‘‘

صوبہ خیبرپختونخوا میں نصرت کوئی ایک ماں نہیں ہے، جس کا نومولود بچہ ایسے گم ہو گیا ہو۔  اس طرح کے سینکڑوں کیس پولیس کے پاس درج ہیں۔ ان تحقیقات کے حوالے سے قائم کردہ ایک خصوصی ٹیم کے سربراہ پولیس افسر ملک حبیب کے مطابق سکیورٹی ادارے اور خفیہ ایجنسیاں ان کے بارے میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ملک حبیب کا کہنا تھا، ’’کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد پتا چلا ہے کہ اس گینگ میں ڈاکٹر، کلینکس اور کئی پیشہ ور مجرم شامل ہیں۔ یہ بچوں کو ہسپتالوں سے چوری کرتے ہیں اور بے اولاد جوڑوں کے فروخت کر دیتے ہیں۔‘‘

پاکستان: سالانہ ہزاروں ’ناجائز بچوں‘ کا خفیہ قتل

ملک حبیب کا مزید کہنا تھا، ’’یہ لوگ ایک بلیک مارکیٹ چلا رہے ہیں اور بچوں کو ایک جنس کے طور پر بیچا جا رہا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ حکام نے ایک ایسی بچی کو تلاش کیا ہے، جو اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے چوری ہوئی تھی اور اسے پشاور لے جایا گیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس گینگ کا پتا اغوا کار کی ایک ٹیلی فون کال سے لگایا اور یہ خفیہ ایجنسیوں کی تحقیقات دو سال تک جاری رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ افراد کی کئی ماہ تک نگرانی کی جاتی رہی اور شواہد ملنے پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ پولیس کی خواتین بھیس بدل کر ان کلینکس پر جاتی رہیں اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بھیس بدل کر خود کو بے اولاد جوڑا قرار دیتے رہے، ’’اس طرح مکمل نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا۔‘‘

پاکستانی ماؤں میں دودھ نہ پلانے کے رجحان سے بچے کمزور

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض اوقات پولی کلینکس میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی بچہ پیدا ہوا ہے تو زندہ بچے کو فروخت کے لیے رکھ دیا جاتا ہے اور کسی مردہ جنین کو والدین کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ والدین کو پتا ہی نہیں چلتا کہ یہ چند گھنٹے پہلے پیدا ہونے والا ان کا بچہ نہیں ہے۔

ملک حبیب کے مطابق ایک نومولود لڑکے کو تقریبا سات لاکھ روپے میں فروخت کیا جاتا ہے اور ایک لڑکی کے عوض تقریبا تین لاکھ روپے حاصل کیے جاتے ہیں۔

گرفتاریوں کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ اس طرح سینکڑوں بچے بے اولاد جوڑوں کو فروخت کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق انہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بہت سے بچے اچھے خاندانوں میں پرورش پا رہے ہیں اور انہیں حکومتی تحویل میں نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ایسے بچوں کے والدین کو تلاش کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، ڈی این اے ٹیسٹ سے بھی یہ سلسلہ بہت طول پکڑ جائے گا۔

اسلام آباد میں کام کرنے والے ایک وکیل رضوان خان کا کہنا تھا کہ بچوں کو گود لینے کا عمل بہت ہی مشکل ہے اور اس وجہ سے بھی زیادہ تر بے اولاد جوڑے بلیک مارکیٹ سے بچے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، ’’کسی بچے کو گود لینے کا طریقہ ء کار انتہائی پیچیدہ ہے اور اس میں بہت زیادہ وقت بھی لگتا ہے۔ آپ آج درخواست دیں تو شاید بیس برس بعد آپ کو کوئی بچہ ملے۔‘‘

صوبہ خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے ایسے کئی مینٹرنٹی ہومز پر چھاپے مارے ہیں، جو نومولود بچوں کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان ذوالفقار بابا خیل کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی سکیورٹی اور نگرانی کا عمل سخت بنانے کے تازہ احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی کیمرے بھی نصب کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

اس ہسپتال کے ڈاکٹر محمد جہانگیر کا کہنا تھا کہ اب نومولود بچوں کی کلائیوں اور ٹانگوں پر ٹیگ لگائے جاتے ہیں جبکہ ایسے بچوں کی نگرانی کا عمل بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ صرف محدود عملے کو بچوں تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔

دوسری جانب نصرت اورکزئی ابھی بھی پرامید ہیں کہ شاید کسی دن اسے اپنا بچہ مل جائے۔ طویل ڈپریشن کی وجہ سے وہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو چکی ہیں اور  اس مرض نے نصرت کی آنکھوں کی روشنی کو بھی کمزور کر دیا ہے لیکن نصرت کی آنکھیں اب بھی باہر کی دروازے کی طرف بار بار دیکھتی ہیں۔

DW.COM