1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان چھوڑ کر جانے والے جارج کی کہانی

پاکستان ميں بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور خوف کی فضا کی ايک نشانی يہ بھی ہے کہ ملک ميں مقيم سب سے مقبول غير ملکی جارج فُلٹن بھی پاکستان سے چلے گئے ہيں۔

default

برطانوی صحافی جارج فلٹن کو مشہور بنانے والے پروگرام کا نام تھا، جارج کا پاکستان۔ فلٹن نے ملک بھر ميں سفر کيا۔ انہوں نے پنجاب کے ميدانوں ميں کسانوں کے ساتھ ہل چلائے اور شمال کے کوہستانی علاقوں ميں پشتونوں کے ساتھ کلاشنکوف رائفلیں بھی تيار کيں۔ اس کا اعتراف کرتے ہوئے انہيں پاکستانی پاسپورٹ بھی ديا گيا تھا۔

بعد ميں انہوں نے ايک پاکستانی صحافی کرن سے شادی کر لی اور وہ نو سال تک پاکستان ميں مقيم رہے۔ کرن اور جارج نے ٹيلی وژن پر ايک مارننگ شو شروع کيا اور جارج اخبارات کے لیے کالم لکھنے لگے۔ جيسے جيسے جارج اپنے نئے وطن کو اپنا تشخص سمجھنے کی راہ پر آگے بڑھتے رہے، ويسے ويسے اس کی خرابيوں اور خاميوں پر ان کی تنقيد ميں بھی اضافہ ہوتا گيا۔

جنوری ميں ان کا پيمانہء صبر لبريز ہو گيا جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثير کو توہين رسالت سے متعلق قانون کی مخالفت پر قتل کر ديا گيا اور اس کو سراہا بھی گيا۔ اب جارج نے اپنے نئے وطن سے معاشقے کا سلسلہ ختم کرنے کا فيصلہ کرليا۔

Blasphemie Gesetz in Pakistan FLASH Galerie

توہین رسالت کے الزام کا سامنا کرنے والی خاتون بی بی آسیہ اپنے شوہر اور متقول وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے ہمراہ

’’ميں جو کام کرتا اور کر سکتا ہوں وہ پاکستان ميں ميری حفاظت کے حوالے سے اس ملک کی داخلی صورت حال کی وجہ سے مسلسل زيادہ سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر آپ ايک قانون کو چيلنج کرتے ہيں تو اس ملک ميں آپ کو قتل کيا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کسی شخص پر تنقيد کرتے ہيں تو آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کا کيا حشر ہوسکتا ہے۔ ميں پاکستان سے اپنے رشتے دوبارہ استوار کرنا چاہتا ہوں ليکن اس سے پہلے اس ملک کو تبديل ہونا پڑے گا کيونکہ يہ ايک ايسا معاشرہ ہے جو مسلسل اور بھی زيادہ عدم روادار ہوتا جارہا ہے۔‘‘

فُلٹن کے خيال ميں پاکستان ايک ناکام رياست بننے کے سانحے کے قريب تر پہنچ رہا ہے۔ وہ يہ نہيں سمجھتے کہ ملک ميں زيادہ عرصے تک جمہوريت قائم رہ سکے گی۔ ليکن ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بحران کی جڑيں بہت گہری ہيں: ’’ان کو متحد رکھنے والی کوئی چيز اس کے سوا نہيں کہ انہيں بھارت سے نفرت ہے۔ فوج اسے بخوبی استعمال کرتی ہے اور اسے پريس اور کرکٹ ميں بھی مؤثر دخل حاصل ہے۔‘‘

جارج کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آزاد اور روشن خيال افراد، جن ميں وہ خود بھی شامل ہيں، آج انتہا پسندوں کے خطرے ميں گھرے ہوئے ہيں۔ ليکن اُن کا کہنا ہے کہ مسئلہ اسی وقت شروع ہوگيا تھا جب آزاد خیال طبقے نے بڑھتے ہوئے اسلامی پسندانہ اثرات کی مخالفت نہيں کی تھی۔

رپورٹ: ٹوماس بیرتھلائن / شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM