1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پاکستان، پینے کا پانی زہریلا ہونے لگا

'سائنس جرنل’ میں شائع ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں زیر زمین پانی میں زہریلے مادے سنکھیا کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ پائی گئی ہے۔ ملک میں قریب پانچ کروڑ افراد یہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔

سائنسی تحقیقی اداروں نے ایک جامع منصوبے کے تحت تحقیقات کے بعد پہلی بار یہ پتہ لگایا ہے کہ پاکستان بھر میں زیر زمین پانی میں آرسینک کہاں کہاں شامل  ہے۔ اس سے قبل کیے گئے کچھ تحقیقی مطالعوں میں پاکستان کے صرف چند ہی علاقوں میں آرسینک کے پانی میں تناسب کے حوالے سے تجربات کیے گئے تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ آرسینک یا سنکھیا سے آلودہ پانی  کے استعمال سے انسانی صحت کو  خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران پاکستان کے بارہ سو مختلف مقامات سے زیر زمیں پانی کے نمونے  جمع کیے گئے ۔ ان نمونوں کی جانچ  سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان بھر میں پانی میں سنکھیا کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ  ہے۔ پاکستان کے مشرقی حصوں خصوصاﹰ لاہور اور اس کے علاوہ سندھ میں حیدرآباد کے زیر زمین  پینے کے پانی میں سنکھیا کی موجودگی کی مقدار  زیادہ  ہے۔

رپورٹ کے مطابق  پاکستان میں دریائے سندھ کے قریبی گنجان آباد میدانی علاقوں میں آرسینک کی مقدار  عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائن میں بیان کی گئی دس مایئکرو گرام فی لٹر کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ بیشتر پاکستانی علاقوں بالخصوص جنوبی علاقہ جات کے زیر زمین پانی میں آرسینک کی مقدار دو سو مائیکرو گرام فی لٹر  تک پائی گئی ہے، جو ایک خطرناک امر ہے۔

Indien Vergiftetes Wasser (picture-alliance/dpa)

آرسینک کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے

سائنسی تحقیقی رسالے کے مطابق پاکستان میں تقریباﹰ  پانچ سے چھ کروڑ افراد  سنکھیا ملے اس زہریلے پانی کو پینے پر مجبور ہیں۔  پاکستان میں زیر زمین پانی میں شامل سنکھیا یا آرسینک کی مقدار پچاس مائکرو گرام ہے جبکہ  عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسے دس مائیکرو گرام فی لِٹر ہونا چاہیے ۔

رپورٹ کے مرکزی مصنف اور آبی سائنس اور ٹیکنالوجی کے سوئس فیڈرل انسٹیٹیوٹ کے سربراہ جول پڈورسکی کی تحقیق کے مطابق  وادی سندھ میں  تمام  کنوؤں کے پانی کی پڑتال کی ضرورت ہے جبکہ حالیہ نتائج بہت پریشان کن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سنکھیا ملے اس پانی کے طویل عرصے تک استعمال سے پھیپڑوں کےکینسر، دل کے امراض اور جلدی بیماریوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:58

پلاسٹک کی بوتلیں کیسے بن رہی ہیں کار آمد ؟

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ  یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ پاکستان میں زیر زمین پانی میں سنکھیا کی مقدار کیوں بڑھ رہی ہے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ کاشت کاری کے لیے پانی کا زیادہ استعمال ہے جس سے زیر زمیں سنکھیا میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

محققین کی رائے میں اس حوالے سے  پاکستان میں نئے کاشتکاری کے اصولوں کو اپنانا ہوگا تاکہ زہریلے مادوں کے زیر زمین جذب ہونے کے باعث زہریلے مادوں کو پانی میں شامل ہونے سے روکا جاسکے۔      

DW.COM

Audios and videos on the topic