1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: پولِش کمپنی کے چھ کارکن  اغوا

پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں  تیل اور گیس کا سروے کرنے والی ایک پولِش کمپنی کے چھ پاکستانی کارکن اغوا کر لیے گئے ہیں۔ فی الحال کسی تنظیم نے اغوا کی ذمّہ داری قبول نہیں کی ہے۔

Pakistanische Soldaten Offensive in Waziristan Archiv Juli 2014 (AFP/Getty Images/A. Qureshi)

افغانستان کی سرحد سے ملحق شمال مغربی علاقے اب بھی غیر ملکیوں اور فارن کمپنیوں کے کارکنان کے لیے خطرناک ہیں

 چند سال قبل عسکریت پسندوں نے اسی کمپنی میں کام کرنے والے ایک پولش انجنئیر کا سر قلم کر دیا تھا۔ پاکستانی سکیور‌ٹی فورسز کے دو فوجی اہلکاروں نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ پولش کمپنی ’ جیو فزیکا کراکو‘ میں کام کرنے والے چھ پاکستانیوں کو ہفتہ مورخہ چھبیس نومبر کی دوپہر کو اُن کی گاڑیوں سے اتار کر اِغوا کیا گیا۔

فوجی اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ شمال مغربی شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے 80 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں درازندہ کے قریب پیش آیا۔ عسکری ذرائع میں سے ایک نے روئٹرز کو اغوا ہونے والے افراد کے نام اور قومی شناختی کارڈ نمبر بھی فراہم کیے ہیں۔ ’ جیو فزیکا کراکو‘ پولینڈ کی سرکاری گیس کمپنی ’پی جی این آئی جی ‘ کا ذیلی ادارہ ہے۔

Pakistan Waziristan Taliban Kämpfer ARCHIV 2012 (picture-alliance/AP Photo)

ماضی میں پاکستانی طالبان اِس علاقے میں وصولی برائے تاوان کے لیے اغوا کی وارداتیں کرتے رہے ہیں

'پی جی این آئی جی ‘ کا اِس حوالے سے فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم اِس سے قبل یہ کمپنی اپنی ویب سائٹ پر  بیان جاری کر چکی ہے کہ وہ رواں برس اگست تک پاکستان میں اپنا کاروبار سمیٹ لے گی۔ فی الحال کسی عسکریت پسند تنظیم نے اغوا کی ذمّہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ماضی میں سخت گیر اسلامی موقف رکھنے والے پاکستانی طالبان اِس علاقے میں وصولی برائے تاوان یا بدلے میں قیدیوں کی رہائی کے لیے اغوا کی وارداتیں کرتے رہے ہیں۔

جس علاقے میں پولش کمپنی کے پاکستانی ملازمین کے اغوا کی واردات ہوئی ہے وہ افغانستان سے ملحق  وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے قریب واقع ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی سیکیورٹی کی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے تاہم افغانستان کی سرحد سے ملحق شمال مغربی علاقے اب بھی غیر ملکیوں اور فارن کمپنیوں کے کارکنان کے لیے خطرناک ہیں۔

DW.COM